Express News:
2026-06-03@07:01:02 GMT

یہ بربریت آخرکب تک؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ اگر وہ کسی ملت کو اپنے پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کی ذمے داری سونپے، اس کے لیے انھیں تیار کرے، اسے مواقع اور سہولیات بھی فراہم کرے مگر وہ پھر بھی نہ صرف یہ کہ اس میں تساہل سے کام لیں بلکہ اپنی اس تفویض کردہ خدمت کو اپنے لیے اعزاز کے بجائے ایک سزا سمجھ بیٹھے۔

اس سے اعراض کرے اور مسلسل تفویض کردہ فرائض کی خلاف ورزی کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔

جب انسانی تاریخ میں انبیا کی آمد کا سلسلہ جاری تھا اس وقت جب اللہ کسی قوم سے ناراض ہو جاتا تو ان کی جگہ دوسری قوم کو لاکھڑا کرتا اور یوں ایک ترقی یافتہ اور پسندیدہ قوم، ناپسند ہو کر عذاب کی مستحق ہو جاتی تھی اور اس لیے اس پر عذاب الٰہی مسلط کیا جاتا تھا۔ 

کبھی طوفانی ہواؤں کے ذریعے، کبھی نہ رکنے والی بارش کی شکل میں، کبھی پتھروں کی بارش کرکے اور کبھی ان کی زمین کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا جاتا تھا۔

مگر اب عذاب کی شکل مختلف نظر آتی ہے، اب نہ زلزلوں کے ذریعے، نہ دھماکوں اور چیخ کے ذریعے، نہ زمین سے اگلنے والے پانی کے ذریعے قوم پر عذاب مسلط نہیں کیا جاتا، اب اگر کوئی قوم بدکردار ہو جائے اور اس کی سلامت روی کا کوئی امکان باقی نہ رہے تو پھر اس قوم کو اس کی ہم عصر، کمزور اور بے طاقت قوم کے آگے اس طرح ڈال دیا جاتا ہے کہ ایک ناتواں طاقت سے کہہ دیا جاتا ہے کہ لو اسے نوچ نوچ کر کھا لو۔

غزہ ملت اسلامیہ کا ایک ہی ایک عضو ہے اور ملت اسلامیہ کے کسی حصے کو تکلیف پہنچے تو پورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے مگر اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اہل غزہ کو ملت اسلامیہ کے من حیثیت القوم بدعہدی اور اپنے منصب کی خلاف ورزی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ یہ اہل غزہ کو سزا نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو سزا ہے۔

 اسرائیل جسے اپنے وقت کے فرعونوں کی حمایت حاصل ہے، اس طرح غزہ پر ٹوٹ پڑا ہے جیسے گدھ کسی مردار جانور پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ غزہ اور اسرائیل کے ارد گرد تقریباً 57 مسلم ممالک موجود ہیں مگر اہل غزہ پر ہونے والے مظالم پر کسی ایک مسلم ملک کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔

غزہ میں روزانہ کے حساب سے مرنے، زخمی ہونے والے لوگوں کی تعداد اس طرح بیان کی جاتی ہے جیسے کرکٹ کے میچ میں کسی ماہر بلے باز کے چھکے اور چوکوں کی تعداد فخریہ پیش کی جاتی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل کے سرپرست امریکا نے جو اپنا جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا ہے اس میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حماس 48 گھنٹوں کے اندر اندر اپنے آپ کو غیر مسلح کر دے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر امریکا کی طرف سے اسرائیل کو آزادی ہوگی وہ اہل غزہ سے جو سلوک چاہے کرے۔

ایسے بے رحمانہ انداز گفتگو کے بعد بھی امریکا بہادر کو امن کا علم بردار قرار دے کر اسے امن کے نوبل پرائز کے لیے امیدوار قرار دینا ملت اسلامیہ کی کمزوری کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے۔ اب متعدد ممالک کے نمایندوں پر مشتمل اہل غزہ کے لیے غذائی اجناس، ادویہ اور طبی آلات لے کر جانے والا جہاز غزہ کے پانیوں میں داخل تو ہو گیا ہے مگر اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس جہاز پر اسرائیلی جنگی بحری جہازوں نے قبضہ کر لیا ہے اور اس پر موجودہ 500 افراد میں سے دو سو کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اور خبر ہے کہ اسرائیل ’’انسانی ہمدردی‘‘ کے اس اعلیٰ منصب پر فائز ہو گیا ہے کہ اس نے اس جہاز میں موجود امدادی سامان پر یہ کہہ کر قبضہ کر لیا ہے کہ اب یہ سامان اسرائیل اہل غزہ کو پہنچائے گا۔

اہل غزہ کے توسط سے ملت اسلامیہ پر یہ احسان اسرائیل کیوں فرمائے گا جب کہ غزہ کے لوگ ساحل پر کھڑے اس امداد کے منتظر ہیں، انھیں اس امداد سے بھی محروم کر دیا گیا ہے اور اس پر بھی دعویٰ یہ ہے کہ انسانیت کا دشمن اپنے سرپرستوں کی نگرانی میں ان کے منہ سے نوالے اور ان زخمیوں سے دوائیں بھی چھین چکے ہیں۔

امدادی سامان لے کر جانے والا یہ بحری جہاز ان اقوام اور افراد پر مشتمل ہے جن کی اکثریت مسلمان نہیں ہے، مگر اسرائیل کو غزہ کے ان زخم خوردگان کی مرہم پٹی، علاج معالجے اور بھوک پیاس سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ ان کو اس نہج پر خود اسرائیل ہی نے تو پہنچایا ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کی یہودیوں کی نسل کشی کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے مگر اس ’’دور مہذب‘‘ میں غزہ کے مسلمانوں پر جس نوعیت کے مظالم توڑے جا رہے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ہٹلر کے مظالم کی کوئی وقعت ہی نہیں رہتی۔

غزہ کے لیے امداد کے لیے جانے والا یہ بحری جہاز مسلمان یا ملت اسلامیہ کا نمایندہ نہیں ہے۔ اس میں یورپی، افریقی اور ایشیائی غیر مسلموں کی بڑی تعداد شامل ہے مگر اسرائیل کو ان کی کاوشوں پر بھی شرم نہیں ہے اور وہ بے شرمی اور دیدہ دلیری سے بین الاقوامی دہشت گردی میں مصروف ہے اور یہ سب کچھ اسرائیل کے بس کی بات نہ تھی یہ اس کے سرپرستوں کی سرپرستی کی برکات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملت اسلامیہ کے ذریعے جاتا ہے اہل غزہ غزہ کے ہے اور کے لیے ہے مگر گیا ہے اور اس

پڑھیں:

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان