برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت، مستقل رہائش حاصل کرنا مزید مشکل
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے امیگریشن پالیسی سے متعلق نئے اور سخت ضوابط متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
لیبر پارٹی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اب اعلیٰ درجے کی انگریزی زبان پر عبور، صاف مجرمانہ ریکارڈ، اور کمیونٹی سروس میں شمولیت لازمی قرار دی جائے گی۔
شبانہ محمود نے وضاحت کی کہ فی الحال تارکینِ وطن پانچ سال مکمل کرنے کے بعد مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم لیبر پارٹی کی تجویز ہے کہ اس مدت کو بڑھا کر دس سال کر دیا جائے تاکہ اس عمل کو مزید سخت بنایا جا سکے۔
ان نئے مجوزہ اصولوں کے تحت وہ افراد جو بہتر آمدنی یا سماجی انضمام کے معیار پر پورا اترتے ہیں، انہیں مستقل رہائش جلد مل سکتی ہے، لیکن ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں درخواست مسترد بھی کی جا سکتی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اب درخواست دہندگان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ برطانوی معاشرے کے لیے کس حد تک مفید اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ایسے افراد کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہے جن کا ریکارڈ کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا ہو۔ ان تجاویز پر باضابطہ مشاورت رواں سال کے آخر میں شروع کی جائے گی۔
شبانہ محمود کے مطابق، مائیگریشن آبزرویٹری کے تخمینے کے مطابق برطانیہ میں اس وقت تقریباً 45 لاکھ افراد مستقل رہائش رکھتے ہیں، جن میں سے تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار غیر یورپی شہری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مستقل رہائش
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔