ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے گھر میں مسلسل تین ہفتوں کی نظر بندی کے بعد گزشتہ روز سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پابندیوں، جائیدادوں کی ضبطگی اور ملازمین کی برطرفی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کشمیریوں کے خلاف جاری جابرانہ بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کو اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں بلکہ بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے گھر میں مسلسل تین ہفتوں کی نظر بندی کے بعد گزشتہ روز سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پابندیوں، جائیدادوں کی ضبطگی اور ملازمین کی برطرفی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے بیگناہ لوگوں کے مصائب و مشکلات میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوتا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں کے کبھی بھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوتے بلکہ دوریاں مزید بڑھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بامعنی بات چیت ہی وہ راستہ ہے جس سے دل و دماغ جیتے جا سکتے ہیں اور مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ میر واعظ نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں جامع مسجد آنے اور بحیثیت میر واعظ اپنے فرائض انجام دینے سے بار بار روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہ یہ سارا عمل غیر جمہوری ہے اور ان لوگوں کی من مانی اور زور زبردستی کو ظاہر کرتی ہیں جو جمہوریت کی روح کے مطابق نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا دہلی کے حکام کو مسائل سے نمٹنے کیلئے بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ میر واعظ نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے اور آئندہ بھی کہتا رہوں گا کہ واحد راستہ بات چیت اور مکالمے کا ہے۔ صرف ایک دوسرے کو سننے، بات کرنے اور سنجیدگی سے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنے سے ہی ان کا حل نکالا جا سکتا ہے، زور زبردستی کے اقدامات اور پابندیوں سے کبھی بھی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہ نے کہا کہ میر واعظ بات چیت جا سکتے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف