data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-08-30
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی صوبے کے معاملات میں مداخلت غیر آئینی عمل ہے۔ پیپلز پارٹی مسلسل پنجاب کے آئینی اختیارات میں مداخلت کر کے اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہر بات پر‘‘مرسْو مرسْو’’کا نعرہ لگاتے تھے، وہ آج صوبائیت کا کارڈ کھیل کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ یا تو اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں یا مریم نواز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ عظمٰی بخاری نے واضح کیا کہ‘‘دو ہفتے پہلے تک میڈیا میں آپ کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا تھا، آج آپ پنجاب کے سیلاب متاثرین اور کسانوں پر فقرے بازی کر کے خبروں میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔’’انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں گزشتہ 17 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جہاں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں، مگر اپنی کارکردگی بہتر کرنے کے بجائے یہ لوگ پنجاب کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔‘‘سندھ حکومت بتائے کہ انہوں نے اپنے کسانوں سے گندم کیوں نہیں خریدی؟ اس کا جواب قوم کو دینا ہوگا۔وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پنجاب اپنے پانی اور وسائل کے استعمال کے لیے کسی دوسرے صوبے سے اجازت لینے کا پابند نہیں۔‘‘پنجاب کے تمام وسائل پر پہلا حق پنجاب کے عوام کا ہے۔ مریم نواز پنجاب کے کسانوں کو ان کے پانی کا حق ہر صورت دلوائیں گی۔عظمٰی بخاری نے مزید کہا کہ‘‘جب مریم نواز پنجاب کے عوام کے حق کی بات کرتی ہیں تو پیپلز پارٹی کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ پنجاب یاد رکھے گا کہ جب یہاں کے عوام مشکل میں تھے، پیپلز پارٹی نے ان کی مشکلات کا مذاق اڑایا۔ پنجاب کے عوام پیپلز پارٹی کے اس منفی رویے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پنجاب کے کے عوام

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان