بھارت میں ہندو مسلم فسادات، گودی میڈیا کا ایجنڈا بھارتی نشریاتی ادارہ کے ہاتھوں بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بھارت میں جاری ہندو مسلم فسادات سے متعلق گودی کا ایجنڈا بھارتی نشریاتی ادارے کے ہاتھوں بے نقاب ہوگیا۔
غاصب مودی نے بھارت کو انتہا پسندی کے اکھاڑے میں بدل دیا، نفرت کی آگ میں اندھی بی جے پی حکومت نے نواراتری پر مسلمانوں کے کاروبار بند کرنے کا حکم سنا دیا۔
گودی میڈیا آئی لو محمد پر جاری احتجاج کو اسلامو فوبیا کا رنگ دے کر پیش کر رہا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے نیوز لانڈری نے مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے مودی کے میڈیا کا پول کھول دیا جبکہ اقتدار پر قابض مودی نے آر ایس ایس کے غنڈوں اور گودی میڈیا کو پروپیگنڈا کا آلہ بنا دیا۔
بھارتی میڈیا پر ’’مسلمان غدار ہوتے ہیں‘‘ کا من گھڑت بیانیہ زور پکڑنے لگا جبکہ بھارت کے گمراہ کن میڈیا کے اینکرز آر ایس ایس کے ترجمان نفرت انگیز بیانات کو ہوا دینے لگے۔
انتہا پسند آر ایس ایس ترجمان نے کھلے عام بیان دیا ہے کہ یہ ہندوؤں کا دیس ہے جس میں مسلمان مساوی حقوق کے حقدار نہیں ہیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں نے 1924 سے ہی متحدہ ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے آزادی کی جدوجہد کی۔
بھارتی میڈیا مسلمانوں کو نشانہ بنا کر اب ہر تہوار کو نفرت میں بدل کر داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے لگا۔ گودی میڈیا نے معاشرے کو منافرت میں بدل کر انسانیت کی تذلیل کی نئی مثال قائم کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گودی میڈیا
پڑھیں:
’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
بھارت میں مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک نئی تحریک کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے، جو ابتدا میں بھارت کے چیف جسٹس کے ایک طنزیہ ریمارکس کے جواب میں وجود میں آئی تھی۔ بعد ازاں یہ تحریک نیٹ پرچہ لیک، سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے تک پھیل گئی۔
گزشتہ ایک ماہ سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دینے والے مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنریشن زیڈ میمز، انسٹاگرام ریلز، وائرل ٹرینڈز، بالی ووڈ، کے-پاپ اور آن لائن کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت اور دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سے ٹرینڈز ہیں جنہوں نے اس احتجاج کو سوشل میڈیا پر دیگر تحریکوں سے منفرد بنا دیا ہے۔
جین زی کا منفرد احتجاجی انداز:
گیٹ ریڈی ود می ٹرینڈ:
احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر ’گیٹ ریڈی وِد می‘ کی ویڈیوز بھی نمایاں ٹرینڈ بن کر سامنے آئی ہیں۔
عام طور پر یہ فارمیٹ میک اپ، اسکن کیئر یا کسی تقریب کی تیاری دکھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس بار نوجوان مظاہرین نے اسے احتجاجی انداز میں اپنایا ہے۔
ویڈیوز کا آغاز عموماً اس کیپشن سے ہوتا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک کے احتجاج میں شریک ہونے کیلئے میرے ساتھ تیار ہوں‘‘، جس کے بعد احتجاجی بینرز تیار کرنا، پانی کی بوتلیں، دیگر ضروری سامان پیک کرنا، اور دوستوں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب روانگی جیسے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔
View this post on Instagramہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ ٹرینڈ:
سوشل میڈیا پر مقبول ’ہوو سیڈ آئی لوو یو فرسٹ‘ ٹرینڈ کو بھی نوجوان مظاہرین نے احتجاجی انداز میں استعمال کیا۔
اس وائرل فارمیٹ میں عام طور پر رومانوی سوالات پوچھے جاتے ہیں، تاہم کانٹینٹ کریئٹرز نے ان سوالات کی جگہ احتجاج، نیٹ پرچہ لیک اور حکومتی اقدامات سے متعلق طنزیہ جملے شامل کر دیے۔
View this post on Instagram
حقیقی زندگی میں ’سب وے سرفرز‘
احتجاج کے دوران پولیس سے بچنے کے مناظر کو بھی جین زی نے مشہور موبائل گیم ’سب وے سرفرز‘ سے تشبیہ دے دیا۔
متعدد انسٹاگرام ریلز میں مظاہرین پولیس سے بچتے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پس منظر میں گیم کی مشہور موسیقی چل رہی ہوتی ہے۔
یہ انداز خاص طور پر ان نوجوانوں میں مقبول ہوا جو بچپن سے اس موبائل گیم سے واقف تھے۔ یوں احتجاج کی مختصر ویڈیوز صرف مظاہرے کی جھلک تک محدود نہ رہیں بلکہ میمز کی شکل اختیار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں۔
View this post on Instagram