لکی مروت میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
لکی مروت میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد،عسکری و سول قیادت نے دہشت گردی کے خلاف متحدہ حکمت عملی کے مشترکہ عزم کا اظہار کردیا،،تقریب میں امن و امان کی بہتری اور انسداد دہشتگردی کیلءے مربوط حکمت عملی پرغورکیا گیا-تقریب میں جنرل آفیسرکمانڈنگ ،آرپی اواورکمشنربنوں سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی اوراس عزم کا اظہار کیا کہ لکی مروت کو دہشت گردی اورفتنہ الخوارج سے پاک کرنے کیلئے تمام ادارے متحدہیں،اس موقع پر انٹیلی جنس شیئرنگ اور داخلی و خارجی راستوں کی سیکیورٹی مزیدسخت بنانے پراتفاق کیاگیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل آفیسرکمانڈنگ نے کہا ہے پولیس کی قربانیاں قابل فخر ہیں، سب مل کر ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں،شرکاء کی جانب سےاداروں کے درمیان اعتماد اورہم آہنگی کو مزیدمضبوط بنانے پربھی اتفاق ہوا-
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔