قاہرہ(نیوز ڈیسک) فلسطینی تنظیم حماس، اسرائیل اور امریکا کے وفود غزہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے مصر میں مذاکرات کے لیے آج جمع ہو رہے ہیں، تینوں فریقین کے نمائندے شرم الشیخ میں بات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ پٹی میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے جلدی کریں۔

حماس اور اسرائیل دونوں نے لڑائی ختم کرنے اور غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی سے متعلق ٹرمپ کے روڈ میپ پر مثبت ردِعمل دیا ہے، اگرچہ تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔

ایک سینئر حماس عہدے دار نے بتایا کہ تنظیم جنگ ختم کرنے کے معاہدے تک پہنچنے اور زمینی حالات کے مطابق قیدیوں کے فوری تبادلے کے عمل کے آغاز کے لیے بہت پرعزم ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ انہیں امید ہے قیدیوں کی رہائی چند دنوں میں ممکن ہو جائے گی۔

ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے حماس اور دیگر فریقوں کے ساتھ بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے، مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور مزید بتایا کہ پہلا مرحلہ اسی ہفتے مکمل ہو جانا چاہئے اور میں سب سے کہہ رہا ہوں کہ تیزی دکھائیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہماری کچھ بہت اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں، دنیا کے ممالک، اسرائیل کے ارد گرد بہت سے ممالک واضح طور پر مسلم، عرب اور بہت سے دوسرے حماس کے ساتھ بہت اچھی ملاقاتیں کر چکے ہیں اور لگتا ہے کہ یہ طریقہ کام کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد کے لیے دو نمائندے بھیجے ہیں جن میں ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

حماس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے مرکزی مذاکرات کار خلیل الحیہ اتوار کی شب وفد کی قیادت میں مصر پہنچے، نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی وفد آج مصر روانہ ہو گا۔

امریکہ، مصر اور قطر کی مہینوں کی ثالثی کی ناکام کوششوں کے بعد متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں تازہ سفارتی پیش رفت پر امید ظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کو ایک ’حقیقی موقع‘ قرار دیا ہے تاکہ پائیدار جنگ بندی ممکن ہو سکے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات سے قبل اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ پر بمباری روک دے، آپ فضائی حملوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا نہیں کرا سکتے۔

ایک فلسطینی ذریعے جو حماس کے قریب ہے، کے مطابق عسکریت پسند اپنی عسکری کارروائیاں روکنے کے لیے تیار ہیں جب اسرائیل اپنی کارروائیاں روک دے گا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب قیدیوں کا تبادلہ مکمل ہو جائے گا تو ہم اگلے مرحلے یعنی اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے حالات پیدا کریں گے، امریکی منصوبے کے تحت نہ صرف لڑائی روکنے کی بات گئی ہے، اس میں 72 گھنٹے کے اندر زندہ قیدیوں اور مردہ قیدیوں کی لاشوں کی حوالگی شامل ہے۔

فلسطینی حریت پسندوں نے اپنے سات اکتوبر کے حملے میں 251 اسرائیلیوں کا قیدی بنایا جن میں سے 47 اب بھی غزہ میں ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں سے 25 جان سے جا چکے ہیں۔

قیدیوں کے بدلے اسرائیل سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عمر قید پانے والے 250 فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے غزہ کے 1700 سے زیادہ قیدیوں کو رہا کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی رہائی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم