ٹک ٹاک اسٹار کا کارنامہ، سائیکل پر ایفل ٹاور کی سیڑھیاں چڑھ کر نیا عالمی ریکارڈ بنا لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
فرانسیسی سائیکلسٹ اور ٹک ٹاک اسٹار اوریلین فونٹینو نے دنیا کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جب انہوں نے پیرس کے مشہور ایفل ٹاور کی 686 سیڑھیاں سائیکل پر چڑھ کر صرف 12 منٹ 30 سیکنڈ میں مکمل کیں۔ یہ ریکارڈ 2002 میں ہیوگز رچرڈ کے بنائے گئے پرانے ریکارڈ کو تقریباً سات منٹ سے توڑ کر بنایا گیا ہے۔
یہ چیلنج آسان نہیں تھا کیونکہ ایفل ٹاور کی سیڑھیاں سائیکل چلانے کے لیے بالکل بھی آسان مرحلہ نہیں ہیں۔ فونٹینو نے بتایا کہ انہوں نے اپنی سائیکل کا بریک استعمال کرکے ٹائروں کو کمپریس کیا اور بار بار چھلانگیں لگاتے ہوئے اس مشکل راستے کو طے کیا۔ اس کامیابی کے لیے انہوں نے کئی مہینوں کی محنت کی، جس میں جم میں سخت محنت اور جیمپ رسی کے ذریعے طاقت بڑھائی اور اس کے لئے خود کو تیار کیا۔
فونٹینو پہلے بھی پیرس کی دیگر مشہور عمارتوں کے علاوہ ایسٹونیا کے ٹی وی ٹاور کو بھی بائیسکل پر سر کر چکے ہیں۔ اس منفرد ریکارڈ کے لیے تیاری چار سال پہلے شروع کی گئی تھی، لیکن کووڈ 19، اولمپک گیمز، اور ایفل ٹاور کی مرمت کی وجہ سے اسے پہلے ملتوی کرنا پڑا۔
فونٹینو کا کہنا ہے کہ یہ چیلنج نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع تھا بلکہ انہیں اپنے پسندیدہ کھیل بائیسکل ٹرائلز کو وسیع تعداد میں لوگوں تک پہنچانے میں مدد بھی ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے کھیلوں میں صرف مقابلوں سے پیسہ کمانا مشکل ہوتا ہے، اس لیے انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی بڑھا کر اسپانسرز اور خود کو مالی طور پر مضبوط کیا ہے۔
فونٹینو کے ایک ملین سے زائد فالورز ہیں، جو ان کے چیلنج ویڈیوز، ٹریننگ ٹپس اور بائیک ریویوز کو پسند کرتے ہیں۔ ان کا اگلا مقصد دنیا کے سب سے بڑے ٹاورز پر سائیکل چلانا ہے، اور وہ شائقین کو یہ کہتے ہوئے خوش دکھائی دیے کہ وہ مستقبل میں برج خلیفہ کو بھی بائیسکل سے سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ اپ نے لاسٹ ٹائم گاڑی کی ٹینکی یا موٹر سائیکل کی ٹینکی کب فل کرائی تھی تو 100 میں سے تقریباً 90 لوگوں نے کہا کہ ان کو تو یاد ہی نہیں ہے کہ ٹینکی بھی کبھی فل کرائی تھی۔
گاڑی میں سوار اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار کا تو بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے، کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
کچھ موٹرسائیکل سواروں نے 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں۔
یہ تو مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں ۔
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹینکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے کیونکہ بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا۔
اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی ایمرجنسی ہو تو تب گاڑی نکالی جاتی ہے جبکہ پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسییشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے، اب تو پٹرول پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے، تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے۔
بجلی کے بل پہلے جو پٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگ گئے ہیں اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے، جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے۔
اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
بہرحال پٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹینکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔