توشہ خانہ ٹو کیس حتمی مراحل میں، آخری گواہ پر جرح مکمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
توشہ خانہ ٹو کیس حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔ عدالت میں آخری گواہ پر بھی جرح مکمل کرلی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور بیرسٹر عمیر مجید عدالت پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی عدالت پیش ہوئے۔سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر سیف، بیرسٹر علی ظفر، مشال یوسفزئی اور وکیل احمد مصر بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو 342 کا سوالنامہ فراہم کردیا۔دونوں ملزمان کا سوالنامہ انتیس انتیس سوالات پر مشتمل ہے۔ توشہ خانہ ٹو کیس کے آخری گواہ پر جرح مکمل کرلی گئی۔گواہ نیب کے تفتیشی افسر محسن ہارون پر وکیل صفائی قوثین مفتی نے جرح کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی عدالت کے سوالنامے کا جواب 8 اکتوبر کو جمع کرائینگے۔توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: توشہ خانہ ٹو کیس بانی پی ٹی آئی
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔