مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ صحت کارڈ پلس حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے،لاکھوں خاندان صحت کارڈ پلس کے ذریعے مفت اور معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں ۔اپنے بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ڈیڑھ سال عرصہ میں 16 لاکھ 70 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جا چکا ہے، عوام کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی پر مجموعی طور پر 57 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں، 276 مریضوں کو ٹرانسپلانٹ اور کاکلیئر امپلانٹ کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے 158 ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے 700 ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت دستیاب ہے، صحت کارڈ پلس کے تحت گردے اور جگر کی پیوندکاری، بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت دیگر مہنگے امراض کا علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہا کہ ژوندون کارڈ کے ذریعے او پی ڈی مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا آغاز بھی ہو چکا ہے، ژوندون کارڈ کے تحت مفت او پی ڈی کا آغاز ضلع مردان سے کیا گیا جسے جلد صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔صوبائی مشیر اطلاعات نے کہا کہ صحت کارڈ پلس حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و بہبود کا منصوبہ ہے، خیبر پختونخوا حکومت عوام کو باوقار اور معیاری صحت سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے، خیبر پختونخوا حکومت نے عوامی خدمت کا نیا معیار قائم کیا ہے۔بیرسٹر سیف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت خیبرپختونخوا کا انقلابی منصوبہ صحت کارڈ پلس عوام کی خدمت، تحفظ اور شفا کی ضمانت ہے، لاکھوں خاندان صحت کارڈ پلس کے ذریعے مفت اور معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: صحت کارڈ پلس کے علاج کی سہولت اور معیاری نے کہا کہ کے ذریعے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا