کراچی میں بھتہ خور پھر سے سرگرم، ایک گروہ زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
کراچی میں ایک بار پھر بھتے کی پرچیاں آنے لگی ہیں، جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کے بعد کاروباری شخصیات کو بھی گولیوں کے ساتھ بھتے کی پرچیاں ملی ہیں جس کے بعد شہر میں ایک بار پھر کئی سال پرانی فضا قائم ہو رہی ہے۔
کاروباری برادری کو بھتہ کی دھمکیاں ملنے پر کراچی چیمبر آف کامرس نے ہنگامی سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے، کراچی چیمبر کے مطابق کاروباری طبقے کو گولیوں کے ساتھ بھتہ کی پرچیاں بھیجنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ایک بار پھر بھتہ خوری کے واقعات تشویشناک اور شہر کے امن و امان کے لیے خطرناک ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین دہشتگردوں کو بھتہ دے کر صوبے میں رہ رہے ہیں، طلال چوہدری
کراچی چیمبر نے ہدایت جاری کی ہے کہ چیمبر اراکین اپنے دفاتر اور رہائش گاہوں پر جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں، اراکین چیمبر سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ کا بیک اپ بھی محفوظ رکھیں، چیمبر اراکین ناخوشگوار واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیمبر کے ساتھ شیئر کریں، کاروباری برادری کےساتھ ہیں، اراکین کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
چند روز قبل جے ڈی سی کے ظفر عباس سے بھاری بھتہ طلب کرنے والا انٹرنیشنل بلیک میلر گروہ بھی گرفتار ہوا ہے، پولیس کے مطابق معروف سماجی رہنما اور جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس سے 14 کروڑ روپے ماہانہ اور 1 ارب 68 کروڑ روپے سالانہ بھتہ طلب کرنے والے انٹرنیشنل بلیک میلر گروہ کو حساس اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیے: محمد شامی کو قتل کی دھمکی موصول، بھارتی کھلاڑی سے کتنا بھتہ مانگا گیا؟
رپورٹ کے مطابق بھاری نفری نے ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں چھاپہ مار کر 3 سے 4 ملزمان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گروہ گزشتہ 40 سال سے سرگرم تھا اور اس دوران بڑے بزنس مین، بلڈرز، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور دیگر کاروباری شخصیات سے بھاری بھتہ وصول کرتا رہا ہے، پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران آنے والی معلومات کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلیک میلر بھتہ خوری کراچی کراچی چیمبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلیک میلر بھتہ خوری کراچی کراچی چیمبر کراچی چیمبر کے مطابق
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔