تیونس ، قیس سعید کی آمریت پر آواز اٹھانے والے شہری کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تیونس سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس میں صدر قیس سعید پر تنقید کی پاداش میں شہری کو سزائے موت سنادی۔دوسری جانب نابل کے علاقے کی عدالت صابر شوشان نامی شہری کے خلاف دی گئی سزائے موت پر دوبارہ غور کرنے کے لیے دوسری سماعت منعقد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق شوشان پر صدر اور ریاست کی سلامتی پر حملے کے الزامات عائد کیے گئے، جو فیس بک پر پوسٹس اور ٹویٹس کی بنیاد پر لگائے گئے تھے۔ حالیہ کئی دنوں سے یہ کیس عوامی حلقوں میں قانون و شہری آزادیوں سے متعلق بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس ضمن میں مجرم کی وکیل لیلی حداد نے بتایا کہ انہوں نے اپنے مؤکل شوشان کے خلاف نابل کی فوجداری عدالت کے کی جانب سے بدھ کے روز سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔ سزائے موت کی وجہ شوشان کی سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹیں تھیں جن میں انہوں نے مبینہ طور پر تونسی صدر قیس سعید کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ وکیل لیلیٰ حداد نے توقع ظاہر کی کہ ان کے مؤکل کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے غیر منصفانہ سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ شوشان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری ملازم کے خلاف بے بنیاد خبریں نشر کیں، صدر کے خلاف غیر مہذب رویہ اختیار کیا اور سرکاری اہلکار کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا تاکہ دنیا کے سامنے ریاست کا تشخص خراب کیا جا سکے۔ تاہم شوشان کو سنائی گئی سزائے موت نے انسانی حقوق، قانونی شعبے اور ذرائع ابلاغ میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ ان حلقوں کے مطابق سنائی گئی سخت سزا عائد کردہ الزامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ سزا تونس میں رائے اور اظہار کی آزادی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔وکلا اور سیاستدانوں نے اس رائے کا اظہار کیا ہے متعلقہ شخص ریاست کے لیے کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہی مجرم کا میڈیا یا سیاست میں کوئی رسوخ ہے۔ نہ تو وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سزائے موت کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر