حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے ، ایف بی آر نے گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری افسران کے اثاثے ڈکلیئر کرنے سے متعلق سول سرونٹس رولز میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، ترمیمی قانون کا اطلاق وفاقی، صوبائی حکومتوں، خود مختار اداروں اور کارپوریشنز کے ملازمین پر ہوگا۔ اس کا مقصد زیادہ شفافیت اور انتظامی امور میں بہتری لانا ہے۔
ایف بی آر نے سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے قواعد میں ترمیم کا مسودہ جاری کر دیا، آئی ایم ایف شرائط کے تحت گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے اثاثے ڈکلیئر کیئے جائیں گے، نوٹیفکیشن کے مطابق پبلک سرونٹ کی نئی تعریف گریڈ 17 اور اس سے بالا افسران پر مشتمل ہوگی۔ ترمیمی قانون کا اطلاق وفاقی و صوبائی حکومتوں، خودمختار اداروں اور کارپوریشنز کے افسران پر بھی ہوگا۔ نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مستثنیٰ افراد اس تعریف میں شامل نہیں ہوں گے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مجوزہ مسودے پر 7 دن کے اندر اندر آراء و تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ مقررہ معیاد کے بعد موصول ہونیوالی آراء کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق ترمیمی قواعد اب پبلک سرونٹس پر لاگو ہوں گے۔ ایف بی آر نے سات روز میں تجاویز و اعتراضات طلب کر لیے۔ ترامیم کا مقصد شفافیت اور انتظامی وضاحت بڑھانا ہے۔ اثاثہ جات کے گوشواروں کے تبادلے کا نظام مزید موئثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ترمیمی مسودہ انکم ٹیکس آرڈیننس دوہزار ایک کی دفعہ دوسوسینتیس کے تحت تیار کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔