نادرا نے پاکستانی شہریوں کے لیے شناختی دستاویز کے حصول کا طریقہ کار ہی بدل دیا۔
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپلی کیشن نے پاکستانی شہریوں کے لیے شناختی دستاویز کے حصول کا طریقہ کار ہی بدل کر رکھ دیا۔ترجمان نادرا سید شباہت علی نے کہا کہ نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ پاکستانی شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت بن گئی ہے۔ شہری گھر بیٹھے درخواستیں دینے لگے۔ تین ماہ کے دوران 12 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوگئی۔سید شباہت علی نے کہا کہ پاک آئی ڈی ایپ ایک کروڑ سے زائد لوگ ڈان لوڈ کر چکے ہیں، پاک آئی ڈی انتہائی قابل اعتماد عوامی سروس ایپلی کیشنز میں شمار ہو چکی۔ترجمان نادرا نے کہاکہ شہری اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے شناختی دستاویزات کی درخواست دیتے ہیں، پاک آئی ڈی ایپ میں شہریوں کیلئے درخواست کی براہ راست ٹریکنگ کی بھی سہولت موجود ہے۔پاک آئی پی ایپ کے باعث نادرا کو ڈیجیٹل درخواستوں کی وصولی میں 45 فیصد اضافہ ہوگیا۔ ترجمان نادرا کے مطابق روزانہ اوسطا 10 ہزار سے زیادہ کیسز ایپ کے ذریعے نمٹائے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاک ا ئی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔