بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے یوٹیوبر عادل راجہ کیخلاف لندن ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
عادل راجہ کو ہرجانہ اور عدالتی اخراجات کی مد میں تقریباً 13 کروڑ روپے ادا کرنا پڑیں گے۔
جج نے قرار دیا کہ عادل راجہ نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کو بدنام کیا اور جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے۔
عدالت نے عادل راجہ کو اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فیصلے کا خلاصہ شائع کرنے اور جھوٹے الزامات کو نہ دہرانے کا حکم بھی دیا ہے۔
لندن پاکستان فوج کے سابق سینئر افسر بریگیڈیئر .
جج رچرڈ اسپئیرمین نے تسلیم کیا کہ ان میڈیا آئٹمز سے راشد نصیر کی شہرت کو نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے 9 میڈیا آئٹمز کو ہتک آمیز قرار دے کر ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔