حماس نے ڈونلڈ ٹرامپ کی نرم بغاوت کو اپنی سیاسی فتح میں بدل دیا، علاقائی ماہر
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
فارس نیوز سے اپنی ایک گفتگو میں حسین کنعانی مقدم کا کہنا تھا کہ صیہونیوں کو اس جنگ میں کوئی سیاسی و عسکری کامیابی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے صرف جنگی جرائم کا ایک طویل ریکارڈ چھوڑا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ و اسرائیل کی جانب سے حماس کی شرائط کو تسلیم کرنے کے حوالے سے علاقائی امور کے ایرانی ماہر "حسین کنعانی مقدم" نے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرامپ" کا 20 نکاتی منصوبہ، درحقیقت مقبوضہ علاقوں کے اندر ایک نرم بغاوت تھا، جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کے مستقبل کو ٹیکنوکریٹس کے حوالے کرنا تھا۔ لیکن حماس نے ذہانت سے کام لیتے ہوئے اور اس پلان کی کچھ شقوں میں ترمیم کر کے اسے اپنی سیاسی فتح میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں، اس معاہدے کے کچھ حصے فلسطینی عوام کے حق میں ہیں، جن میں جارحیت کا بند ہونا، سرحدی راہداریوں کو کھولنا، غزہ سے صیہونی افواج کا مرحلہ وار انخلاء اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے، جس میں تقریباً 30 شہداء کی لاشیں اور 20 زندہ قیدی سرفہرست ہیں۔
حسین کنعانی مقدم نے زور دے کر کہا كہ آج امریکہ و اسرائیل مجبور ہیں کہ وہ حماس کے سامنے بیٹھیں اور اس کی شرائط کو قبول کریں۔ یہ پیشرفت اس تحریک کی طاقت اور اسے تباہ کرنے کے دعوے میں مکمل ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونیوں کو اس جنگ میں کوئی سیاسی و عسکری کامیابی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے صرف جنگی جرائم کا ایک طویل ریکارڈ چھوڑا ہے۔ اب تک غزہ میں 170,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 10,000 افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے حالیہ معاہدے کے سیاسی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ درحقیقت نیتن یاہو رژیم کے اختتام کی گھنٹی ہے۔ وہ مقبوضہ علاقوں کے اندر گہرے بحران کا سامنا کرے گا اور اس کی حکومت کے گرنے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر فلسطینی عوام کی حمایت کا گراف بہت اوپر ہے اور یہ ایک عالمی سماجی تحریک بن گئی ہے۔
حسین کنعانی مقدم نے کہا کہ امریکہ، غزہ کو اپنی کالونی بنانے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن حماس کی شرائط کے بعد یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ کیونکہ معاہدے کے مطابق، مستقبل میں غزہ کی حکومت، فلسطینی افواج کی موجودگی میں تشکیل پائے گی۔ جب کہ مقاومتی تحریکیں اسی صورت غیر مسلح ہوں جب غزہ میں بیرونی عناصر کی بجائے فلسطینیوں کی اپنی رٹ قائم کی جائے گی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد مشروط طور پر امن منصوبہ قبول کرنے میں حماس کی ذہانت و دانشمندی، ایک بڑی سیاسی فتح سمجھی جاتی ہے۔ جس نے پورے خطے میں طاقت کا توازن استقامتی فرنٹ کے حق میں بدل دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے اور اس
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔