پشاور: وزیراعلی خیبر پختونخوا کا انتخاب، تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ٹوٹنے کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وزیراعلی خیبر پختونخوا کے انتخاب سے قبل تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی جانب سے وفاداری تبدیل کیے جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا جب کہ صوبائی صدر جنید اکبر نے تمام ارکان اسمبلی کو ملک میں موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
جنید اکبر نے کہا کہ تمام ایم پی ایز ملک میں اپنے موجودگی یقینی بنائیں، اگر کسی کے ساتھ کوئی ادارہ یا سیاسی پارٹی رابطہ کریں تو قیادت کو بروقت اطلاع دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بصورت دیگر پارٹی سخت ایکشن لے گی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے پانچ ارکان اسمبلی بیرون ملک سفر پر ہیں، بیرون ملک سفر کرنے والوں میں 2 اپوزیشن اور تین حکومتی اراکین شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارکان اسمبلی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔