وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے انتخاب سے قبل پی ٹی آئی کو اراکین کی وفاداریاں بدلنے کا خدشہ، صوبائی صدر کی ہدایات جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتخاب سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنے ہی ارکان اسمبلی کی جانب سے وفاداریوں میں ممکنہ تبدیلی کا سامنا ہے۔ اس سیاسی صورتحال کے پیش نظر پارٹی کی جانب سے فوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر نے تمام ارکان اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک کے اندر موجود رہیں اور کسی بھی ادارے یا سیاسی جماعت کی جانب سے رابطے کی صورت میں قیادت کو فوری طور پر آگاہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی رکن پارٹی قیادت کو اطلاع دیے بغیر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا، تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے پانچ ارکان اس وقت بیرونِ ملک ہیں، جن میں دو کا تعلق اپوزیشن جبکہ تین کا تعلق حکومت سے ہے۔ ان کی غیرموجودگی نے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے قبل پارٹی صفوں میں تشویش پیدا کر دی ۔
جنید اکبر کی ہدایت کا مقصد پارٹی کے اندر ممکنہ دراڑوں کو روکنا اور اتحاد کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں کوئی غیر متوقع صورتحال پیش نہ آئے۔ اس ساری صورتحال نے صوبے میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے انتخاب
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔