فلسطینیوں کیلئے ایسی تکلیف دہ صورتحال دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جانی چاہیے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی عوام نے ناقابلِ بیان مصائب برداشت کیے ہیں، غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے معاہدے کا اعلان تاریخی موقع ہے۔
اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی امید ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے عمل میں عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم دکھایا۔
وزیراعظم نے قطر، مصر اور ترکیہ کے رہنماؤں کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان رہنماؤں نے معاہدے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے بے مثال قربانیاں دیں، ایسی تکلیف دہ صورتحال دوبارہ کبھی نہیں دہرائی جانی چاہیے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے مسجد اقصیٰ میں حالیہ اشتعال انگیزیوں پر اظہارِ تشویش اور اس کی مذمت بھی کی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین سے معاہدے کی شرائط کی مکمل پاسداری کی اپیل کی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، لڑائی ہمیشہ کے لیے بند ہونی چاہیے۔ غزہ میں انسانی امداد اور ضروری تجارتی سامان کے داخلے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جنگ روکنے اور غزہ میں یرغمال قیدیوں کی رہائی کے لیے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر مصر میں دستخط کر لیے گئے ہیں، تاہم امن ڈیل پر باضابطہ دستخط آج دوپہر کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔