data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چنئی: بھارت میں زہریلی کھانسی کی دوائی پینے سے تقریباً 20 بچوں کی موت نے ملک کے عوام کو شدید غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس نے اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے سری سن فارما کے مالک ایس رنگناتھن کو چنئی میں گرفتار کر لیا ہے۔

معاملہ زور پکڑنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی۔ سری سن فارما کے مالک کو حراست میں لینے کے بعد پولیس سخت پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے پانڈے نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ سری سن فارما کے مالک ایس رنگناتھن کو بدھ کی رات دیر گئے گرفتار کیا گیا۔ اسے چنئی (تمل ناڈو) کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد اسے چھندواڑہ لایا جائے گا۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، مدھیہ پردیش پولیس کے لیے سری سن فارما کے مالک کو پکڑنا بہت ضروری ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے ان پر انعام کا اعلان کیا گیا اور ملزمان کی پکڑوانے میں مدد کرنے والوں کے لیے 20 ہزار روپے انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔ رنگناتھن کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) بھی تشکیل دی گئی تھی۔

مدھیہ پردیش کے وزیر مملکت برائے صحت نریندر شیواجی پٹیل نے بچوں کے قتل کے لیے تمل ناڈو حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کھانسی کی دوائی سے ہونے والی اموات کے پہلے کیس مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ اور بیتول سے رپورٹ ہوئے تھے، جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں کئی بچوں کی موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد راجستھان کے کچھ اضلاع سے کھانسی کی دوائی پینے سے اموات کی خبریں بھی آئیں۔

چھندواڑہ انتظامیہ کے مطابق کولڈریف کھانسی کی دوائی پینے کے بعد بچوں کو الٹی، پیشاب میں جلن اور بخار جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں نے ان کے گردے فیل ہونے کی تشخیص کی۔ مرنے والے تمام بچوں کی عمریں 2 سے 5 سال کے درمیان تھیں۔ ان کی حالت خراب ہونے پر کئی بچوں کو ناگپور اور بھوپال کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کیسوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ملک بھر کی کئی ریاستوں میں کولڈریف پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سری سن فارما کے مالک کھانسی کی دوائی مدھیہ پردیش بچوں کی کے بعد کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی