بھارت،کھانسی کی دوا سے بچوں کی ہلاکتیں،کمپنی کامالک گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چنئی: بھارت میں زہریلی کھانسی کی دوائی پینے سے تقریباً 20 بچوں کی موت نے ملک کے عوام کو شدید غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس نے اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے سری سن فارما کے مالک ایس رنگناتھن کو چنئی میں گرفتار کر لیا ہے۔
معاملہ زور پکڑنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی۔ سری سن فارما کے مالک کو حراست میں لینے کے بعد پولیس سخت پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اجے پانڈے نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ سری سن فارما کے مالک ایس رنگناتھن کو بدھ کی رات دیر گئے گرفتار کیا گیا۔ اسے چنئی (تمل ناڈو) کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد اسے چھندواڑہ لایا جائے گا۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، مدھیہ پردیش پولیس کے لیے سری سن فارما کے مالک کو پکڑنا بہت ضروری ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے ان پر انعام کا اعلان کیا گیا اور ملزمان کی پکڑوانے میں مدد کرنے والوں کے لیے 20 ہزار روپے انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔ رنگناتھن کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) بھی تشکیل دی گئی تھی۔
مدھیہ پردیش کے وزیر مملکت برائے صحت نریندر شیواجی پٹیل نے بچوں کے قتل کے لیے تمل ناڈو حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے میں انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کھانسی کی دوائی سے ہونے والی اموات کے پہلے کیس مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ اور بیتول سے رپورٹ ہوئے تھے، جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں کئی بچوں کی موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد راجستھان کے کچھ اضلاع سے کھانسی کی دوائی پینے سے اموات کی خبریں بھی آئیں۔
چھندواڑہ انتظامیہ کے مطابق کولڈریف کھانسی کی دوائی پینے کے بعد بچوں کو الٹی، پیشاب میں جلن اور بخار جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں نے ان کے گردے فیل ہونے کی تشخیص کی۔ مرنے والے تمام بچوں کی عمریں 2 سے 5 سال کے درمیان تھیں۔ ان کی حالت خراب ہونے پر کئی بچوں کو ناگپور اور بھوپال کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کیسوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ملک بھر کی کئی ریاستوں میں کولڈریف پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سری سن فارما کے مالک کھانسی کی دوائی مدھیہ پردیش بچوں کی کے بعد کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔