ڈاکٹر راحیل قمر کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی نامور جامعہ کامسیٹس یونیورسٹی (کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹینیبل ڈیولپمنٹ ان سائوتھ ) کی سربراہی ایک بار پھر ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کامسیٹس یونیورسٹی میں من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی سربراہی میں یونیورسٹی کے سینٹ کی منظوری کے بعد ریکٹر کامسیٹس کی تعیناتی کے لیے سمری ایوان صدر منظوری کے لیے بھیجوائی گئی ہے، اعلی تعلیم کے مختلف اداروں کی سربراہی کرنے والے تین نامور ماہرین کے نام سمری میں موجود ہیں جن میں ڈاکٹر راحیل قمر پہلے ،ڈاکٹر محمد طفیل دوسرے اور ڈاکٹر محمد جمیل تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔

ڈاکٹر راحیل قمر اس سے پہلے بھی کامسیٹس یونیورسٹی کی بطور ریکٹر سربراہی کر چکے ہیں۔انہوں نے 2017سے 2020تک بطور قائم مقام ریکٹر کامسیٹس یونیورسٹی کی سربراہی کی۔

یہ بھی پڑھیں: کامسیٹس یونیورسٹی میں غیر اخلاقی سوال، لیکچرار نوکری سے فارغ

ڈاکٹر راحیل قمر کو 2007میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے تمغہ امتیاز بھی حاصل کر چکے ہیں۔وہ اس وقت بطور او آئی سی سے ادارے اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (ICESCO) کے سربراہ کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

سمری میں موجود دوسرے نمبر پر ڈاکٹر محمد طفیل غازی یونیورسٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر موجود ڈاکٹر محمد جمیل بطور وائس چانسلر مردان یونیورسٹی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ریکٹر سربراہ سمری صدر آصف علی زرداری کامسیٹس یونیورسٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریکٹر سربراہ صدر ا صف علی زرداری کامسیٹس یونیورسٹی کامسیٹس یونیورسٹی ڈاکٹر راحیل قمر کی سربراہی ڈاکٹر محمد کے لیے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری