تحریک انصاف نے پنجاب کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
تحریک انصاف نے پنجاب کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف نے تحریک انصاف نے پنجاب کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دیدیا۔سینیٹر علی ظفر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ کافی دنوں بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی ٹھیک اور ہائی سپرٹ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل مکمل ہوگیا ہے، 13 اکتوبر کو حتمی دلائل ہونگے امید ہے منگل بدھ تک فیصلہ آئے گا، بانی کے خلاف یہ پانچواں بوگس کیس ہے، یہ سارے کیسز سیاسی ہیں تاکہ بانی کو اندر رکھا جائے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی نے کہا اپنی قوم کو جھکنے نہیں دونگا، بانی نے کہا علی امین گنڈا پور ان کا وفادار ساتھی ہے، ان کا مضبوط امیدوار تھا، بانی کو صوبے میں ملٹری آپریشنز پر شدید تحفظات تھے، بانی نے کہا سیاسی حکمت عملی کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان نے کہا ہماری پارٹی اور صوبہ ان چیزوں کا متحمل نہیں، وزیراعلی کی تبدیلی کی ٹرانزیشن جلد سے جلد مکمل ہو، نئے وزیر اعلی کے منصب سنبھالنے کے بعد بانی کابینہ کے نام فائنل کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی نے پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیز سے فوری مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس 14 سٹینڈنگ کمیٹیز ہیں، بانی نے تمام سٹینڈنگ کمیٹیز سے استعفی دینے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کی چیئرمین شپ کا کوئی ایشو نہیں ہے، اگر آج میں استعفی دوں پی ٹی آئی پارٹی ہیڈ سے فارغ ہوجائے گی، اگر میں استعفی دوں تو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پارٹی ختم ہوجائے گی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کو علی امین گنڈا پور سے صوبے میں امن امان اور دہشت گردی کے اوپر تحفظات تھے، نیا وزیر اعلی وہی ہے جو بانی نے نامزد کیا ہے، ہماری گورنر کے پی سے درخواست ہے وہ استعفی قبول کرے تاکہ سموتھ ٹرانزیشن ہو۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، وزیر اعلی کی تبدیلی پر میرے ساتھ کوئی ڈسکشن نہیں ہوئی ہے، بہت سارے فیصلوں پر خان صاحب مشورہ نہیں کرتے، وزیر اعلی کی تبدیلی بانی کا فیصلہ ہے، پارٹی کو قبول ہے۔
سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا ہے علی امین گنڈا پور انکا وفادار ساتھی ہے، بانی نے کہا دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر علی امین عملدرآمد نہیں کرسکے۔انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا کابینہ فی الحال یہی چلے گی، آگے دیکھ لیں گے اگر کوئی تبدیلی کرنی پڑی۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی نے کہا وزیراعلی کی تبدیلی ایک آئینی عمل ہے اگر کسی نے رکاوٹ ڈالی تو بھر پور احتجاج کرینگے، بانی نے کہا ہے نئے وزیر اعلی جلد اپنا منصب سنبھالیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرترکیہ کا غزہ جنگ بندی کی نگران ٹاسک فورس میں شمولیت کا اعلان ترکیہ کا غزہ جنگ بندی کی نگران ٹاسک فورس میں شمولیت کا اعلان غزہ امن معاہدے کی منظوری کیلئے طلب کیا گیا اسرائیلی کابینہ کا اجلاس تاخیر کا شکار سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت اسلامی سے استعفی دے دیا ”بس بہت ہو گیا” اب دہشت گردوں کا سر کچلنا ہوگا: وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے کے بعد ٹرمپ کا دورہ اسرائیل متوقع، کنیسٹ سے خطاب کا امکان افغانستان کے وزیرِ خارجہ کا پہلا دورہ بھارت؛ افغان پرچم کا معاملہ بھارتی حکام کے لیے آزمائش بن گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف نے کی سٹینڈنگ
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.