اسلام ٹائمز: ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا کہ اس کے کم از کم 2 کارکن جاں بحق ہوگئے ہیں، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق صرف ایک ہلاکت ہوئی، جس کی لاش تنظیم کے حوالے کر دی گئی تھی۔ ٹی ایل پی نے یہ بھی کہا کہ اس کے 50 کارکن زخمی ہوئے، لیکن پولیس نے یہ تعداد صرف 7 بتائی، جبکہ بدھ کی رات سے اب تک درجنوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ لاہور سے نمائندہ خصوصی کی رپورٹ

لاہور میں تحریک لبیک پاکستان اور لاہور پولیس ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے آج بھی تیاری کرلی ہے جبکہ ٹی ایل پی نے بھی کارکنوں سے آج بروز جمعہ مرکز پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو صورتحال مسلسل کشیدہ رہی، کیونکہ بدھ کی رات پولیس اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوگئے تھے، جن میں تقریباً ایک درجن پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ تصادم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کی کال دیئے جانے کے بعد شروع ہوا، جہاں وہ فلسطینیوں کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا ارادہ رکھتی تھی۔

حکام نے ٹی ایل پی کو اپنے منصوبے پر عملدرآمد سے روکنے کیلئے سخت اقدامات کیے، ملتان روڈ پر واقع تنظیم کے مرکز کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا اور شہر کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیئے۔ ملتان روڈ بند ہونے سے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارے کچھ افسران ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے مذاکرات کیلئے ملتان روڈ تحریک کے مرکز پہنچے، جسے کارکنوں سے سعد رضوی کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کرکے پولیس کو روک لیا اور اس موقع پر پولیس اور کارکنوں میں چھڑپ ہوگئی، جس میں درجنوں کارکن اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ بدھ کی شب پولیس سے جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ جمعے کو (آج) لاہور پہنچیں، تاکہ حتمی کال دی جا سکے۔

اس صورتحال نے پولیس کو تشویش میں مبتلا کر دیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ مظاہرہ پرتشدد ہوسکتا ہے، اس خدشے کے پیش نظر صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے، جس کے باعث شہریوں، خاص طور پر چوبرجی سے یتیم خانہ چوک تک کے گنجان آباد علاقوں میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود فضا میں کشیدگی برقرار رہی، خاص طور پر ملتان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رہی، مشتعل ٹی ایل پی کارکنوں نے سڑک پر عارضی پناہ گاہیں بنا کر پولیس کیخلاف مورچہ بندیاں کر لیں۔ جمعرات کی دوپہر پولیس اور کارکنوں کے درمیان دوبارہ آمنا سامنا ہوا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی، تنظیم کے کارکنوں نے اس دوران بعض دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا کہ اس کے کم از کم 2 کارکن جاں بحق ہوگئے ہیں، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق صرف ایک ہلاکت ہوئی، جس کی لاش تنظیم کے حوالے کر دی گئی تھی۔ ٹی ایل پی نے یہ بھی کہا کہ اس کے 50 کارکن زخمی ہوئے، لیکن پولیس نے یہ تعداد صرف 7 بتائی، جبکہ بدھ کی رات سے اب تک درجنوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نواں کوٹ تھانے میں درجنوں ٹی ایل پی کارکنوں اور حامیوں کیخلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقدمے میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر مرکزی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پولیس ذرائع ٹی ایل پی نے ملتان روڈ کے مطابق تنظیم کے کہ اس کے بدھ کی

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن