لاہور میں ٹی ایل پی اور پولیس میں جھڑپ کیوں ہوئی، کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا کہ اس کے کم از کم 2 کارکن جاں بحق ہوگئے ہیں، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق صرف ایک ہلاکت ہوئی، جس کی لاش تنظیم کے حوالے کر دی گئی تھی۔ ٹی ایل پی نے یہ بھی کہا کہ اس کے 50 کارکن زخمی ہوئے، لیکن پولیس نے یہ تعداد صرف 7 بتائی، جبکہ بدھ کی رات سے اب تک درجنوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ لاہور سے نمائندہ خصوصی کی رپورٹ
لاہور میں تحریک لبیک پاکستان اور لاہور پولیس ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے آج بھی تیاری کرلی ہے جبکہ ٹی ایل پی نے بھی کارکنوں سے آج بروز جمعہ مرکز پہنچنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو صورتحال مسلسل کشیدہ رہی، کیونکہ بدھ کی رات پولیس اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوگئے تھے، جن میں تقریباً ایک درجن پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ تصادم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کی کال دیئے جانے کے بعد شروع ہوا، جہاں وہ فلسطینیوں کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کا ارادہ رکھتی تھی۔
حکام نے ٹی ایل پی کو اپنے منصوبے پر عملدرآمد سے روکنے کیلئے سخت اقدامات کیے، ملتان روڈ پر واقع تنظیم کے مرکز کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا اور شہر کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیئے۔ ملتان روڈ بند ہونے سے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمارے کچھ افسران ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سے مذاکرات کیلئے ملتان روڈ تحریک کے مرکز پہنچے، جسے کارکنوں سے سعد رضوی کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کرکے پولیس کو روک لیا اور اس موقع پر پولیس اور کارکنوں میں چھڑپ ہوگئی، جس میں درجنوں کارکن اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ بدھ کی شب پولیس سے جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ جمعے کو (آج) لاہور پہنچیں، تاکہ حتمی کال دی جا سکے۔
اس صورتحال نے پولیس کو تشویش میں مبتلا کر دیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ مظاہرہ پرتشدد ہوسکتا ہے، اس خدشے کے پیش نظر صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے، جس کے باعث شہریوں، خاص طور پر چوبرجی سے یتیم خانہ چوک تک کے گنجان آباد علاقوں میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود فضا میں کشیدگی برقرار رہی، خاص طور پر ملتان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند رہی، مشتعل ٹی ایل پی کارکنوں نے سڑک پر عارضی پناہ گاہیں بنا کر پولیس کیخلاف مورچہ بندیاں کر لیں۔ جمعرات کی دوپہر پولیس اور کارکنوں کے درمیان دوبارہ آمنا سامنا ہوا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی، تنظیم کے کارکنوں نے اس دوران بعض دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا کہ اس کے کم از کم 2 کارکن جاں بحق ہوگئے ہیں، تاہم پولیس ذرائع کے مطابق صرف ایک ہلاکت ہوئی، جس کی لاش تنظیم کے حوالے کر دی گئی تھی۔ ٹی ایل پی نے یہ بھی کہا کہ اس کے 50 کارکن زخمی ہوئے، لیکن پولیس نے یہ تعداد صرف 7 بتائی، جبکہ بدھ کی رات سے اب تک درجنوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نواں کوٹ تھانے میں درجنوں ٹی ایل پی کارکنوں اور حامیوں کیخلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقدمے میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر مرکزی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پولیس ذرائع ٹی ایل پی نے ملتان روڈ کے مطابق تنظیم کے کہ اس کے بدھ کی
پڑھیں:
بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بابوسر ٹاپ روڈ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید معلومات اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے ڈپٹی کمشنر دیامر آفس 05812920055 دیامر پولیس کنٹرول روم 05812930037 پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں۔