بھارت: رہایشی عمارت کی لفٹ گرنے سے 4 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شکتی ضلع میں لفٹ گرنے کا واقعہ رونما ہوا ہے، جس کے باعث 4مزدور ہلاک ہو گئے جبکہ 6دیگر زخمی ہو گئے۔ ذرائع ا بلاغ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ اْس وقت پیش آیا جب مزدور کام ختم کرنے کے بعد لفٹ کے ذریعے نیچے آ رہے تھے کہ اچانک لفٹ کا تار ٹوٹ گیا۔ رپورٹس کے مطابق حادثے کے وقت لفٹ میں 10 افراد موجود تھے، جن میں سے 4 موقع پر ہی دم گئے جبکہ 6زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے حادثے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، تاکہ لفٹ گرنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت میں حیدرآباد کے پرانے شہر میں ایک افسوسناک واقعہ رونما ہواتھا، اپارٹمنٹ کی لفٹ ٹوٹنے سے 6 افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔ چندولال بارہ دری کے علاقے میں ایک فلیٹ کی لفٹ اچانک ٹوٹ گئی تھی۔ زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر کے پاؤں ٹوٹ گئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حادثے کے وقت لفٹ میں موجود ایک شخص نے اس منظر کی ویڈیو بھی بنائی۔حادثے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے، اطلاع ملتے ہی پولیس پہنچ گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔