خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کا پہلا حکم سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سٹی42: خیبر پختون خوا صوبے کے اندر دہشتگردوں نے جنگ کو عروج پر پہنچا رکھا ہے اور سرحدوں پر پڑوسی ملک کے طالبان حملے کر رہے ہیں، ایسے میں صوبے کی حکومت سنبھالنے والے نئے وزیراعلیٰ نے پہلا کام یہ کیا کہ عدالتی مفرور صنم جاوید کے پشاور سے غائب ہو جانے کے واقعہ کا "سختی سے نوٹس" لے لیا۔
صنم جاوید لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت سے نو مئی سانحہ کے دو مقدموں میں قید کی سزا پانے کے بعد سے مفرور ہے اور پشاور میں موجود تھی۔ کچھ روز پہلے وہ پشاور میں مبینہ طور پر اغوا ہو گئی۔ جس کا مقدمہ فوراً درج ہوا اور فوراً تفتیش کی گئی۔
آغا سراج درانی کی وفات پر ملک میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر
آج خیبر پختونخوا کے اڈیالہ جیل سے نامزد ہو کر آنے والے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالا تو پہلا کام یہ کیا کہ صنم جاوید کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے انسپکٹر جنرل پولیس کو اپنے دفتر طلب کیا اور ان سے صنم جاوید کے مبینہ اغوا کے معاملے پر کل تک رپورٹ مانگی۔
Waseem Azmet.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: صنم جاوید
پڑھیں:
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف کیس: الیکشن کمیشن 4 دسمبر کو سماعت کرے گا
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف کیس کی اگلی سماعت 4 دسمبر کو مقرر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتخابی عملے کو دھمکانے کا کیس، وزیراعلیٰ خیبر کی الیکشن کمیشن میں پیشی
کمیشن نے سہیل آفریدی کو این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخاب کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے۔
الیکشن عملے کو دھمکانے کا الزامای سی پی نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اس بیان اور مبینہ دھمکی کا نوٹس لیا تھا جس میں انہوں نے جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے عملے، ضلعی انتظامیہ، پولیس کو مبینہ طور پر دھمکیاں دیں، اور عوام کو بھڑکانے کی کوشش کی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق جلسے میں ایک مفرور مجرم بھی وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ موجود تھا جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔
سیکریٹری ای سی پی کے خطسیکریٹری الیکشن کمیشن نے سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری دفاع کو ارسال کردہ خطوط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے حالیہ اقدام سے الیکشن افسران کی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیے: مزید 4 ججوں کے استعفے تیار، سہیل آفریدی پارٹی کے لیے بہتر کیسے؟
وزیرِ اعلیٰ کے بیان نے انتظامیہ اور الیکشن عملے کی سیکیورٹی اور آزادی کو متاثر کیا ہے۔
الیکشن کمیشن اس معاملے کی تفصیلی سماعت 4 دسمبر کو کرے گا۔ اس حوالے سے کاز لسٹ جاری کردی گئی ہے۔
قبل ازیں 25 نومبر کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن کیمشن عملے کو دھمکانے کے کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش ہو گئے تھے۔
سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور الیکشن عملے کو دھمکانے کا کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔
وزیر اعلیٰ کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ این اے 18 سے متعلق دو تین اور درخواستیں ہیں انہیں اکٹھا کرلیں جبکہ اسپیشل سیکریٹری لانے کہا کہ اس کیس کو علیحدہ دیکھا جائے۔
مزید پڑھیں: چشمہ رائٹ بینک کینال کو پی ایس ڈی پی فنڈنگ کے ذریعے جلد شروع کرایا جائے، سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط
چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے کہا کہ ہم آپ کو سنیں گے آپ جتنے دن مرضی دلائل دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان الیکشن کمیشن سہیل آفریدی کے خلاف کیس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی