سہیل آفریدی کا حلف اٹھانے کے فوری بعد عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) نو منتخب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوری بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کل 16 اکتوبر کو اڈیالہ جیل جائیں گے، جہاں وہ عمران خان سے ملاقات کریں گے۔
اس حوالے سے صوبائی حکومت نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو باضابطہ طور پر مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ مراسلہ محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کی جانب سے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو بھیجا گیا ہے، جس میں وزیرِ اعلیٰ کی عمران خان سے ملاقات کے لیے ضروری سیکیورٹی و انتظامی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان کا پاک فوج کے ٹینکوں پر قبضے کا جھوٹا دعویٰ بےنقاب
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ "وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی عمران خان سے ملاقات کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں۔"
مزید :.ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان سے ملاقات
پڑھیں:
وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم، عدالت جانے کا اعلان
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا 10 گھنٹے سے جاری دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی ر پورٹ کے مطابق دھرنے میں علامہ ناصر عباس کی آمد کے بعد ایک مشاورتی نشست ہوئی جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت محمود خان اچکزئی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی بھی شریک تھے۔
مشاورت کے بعد فیصلہ سامنے آیا کہ نمازِ فجر کے فوراً بعد وزیرِ اعلیٰ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے اور آئندہ لائحہ عمل کے لیے منگل کے روز دوبارہ کارکنوں کو احتجاج کی کال دی جائے گی۔ اسی دوران یہ بھی طے پایا کہ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آج ہی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ قانونی راستے سے بھی اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مشاورت مکمل ہونے کے بعد علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے، جب کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی وہیں موجود رہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ یہ دھرنا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعلیٰ کو یقین تھا کہ بطور صوبائی چیف ایگزیکٹو انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت ملے گی، لیکن حالات اس کے برعکس نکلے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔ سہیل آفریدی نے جمہوری حق کے اظہار کے لیے دھرنے کا راستہ اختیار کیا، بظاہر یہ دھرنا عدالتی حکم تک جاری رہتالیکن حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے لیے وقتی طور پر اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات یقینی بنانی ہے تو پارٹی اپنی عوامی قوت استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر کارروائی آگے بڑھاتے رہیں۔