پی ٹی آئی کی ایکٹویسٹ فلک جاوید کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لاہور کی مقامی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کے مقدمے میں فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سیشن کورٹ لاہور میں ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کے مقدمہ کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کےبعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ فلک جاوید کی جانب سے میاں علی اشفاق اور رانا رؤف ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔
ایڈیشنل سیشن جج ساجد احمد چوہدری نے ضمانت بعدازگرفتاری پر سماعت کی۔ فلک جاوید کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کیا ہے۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلک جاوید کی
پڑھیں:
انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ برسوں بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملکی عدالتی تاریخ کے کافی پرانے اور اہم نوعیت کے مقدمے نے بالآخر اہمیت پا لی۔ سپریم کورٹ نے انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے سے متعلق کیس کو باضابطہ طور پر سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
کئی دہائیوں سے زیر التوا یہ معاملہ اب ایک مرتبہ پھر بڑے عدالتی فورم پر زیر بحث آ رہا ہے، جس کی وجہ سے قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں میں غیرمعمولی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ تشکیل دیا ہے، جو 5 دسمبر کو پہلی باضابطہ کارروائی کرے گا۔
یہ بینچ تقریباً ڈیڑھ سال کے تعطل کے بعد بحال کیا گیا ہے، جس کی دوبارہ تشکیل کے بعد اس طویل مدت سے رکے ہوئے کیس کی پیش رفت ممکن ہو سکی ہے۔
یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ موجودہ انتخابی ڈھانچے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دینے کی درخواست تقریباً 36 برس قبل دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملک کے انتخابی طریقہ کار، نمائندگی کے حصول کے اصول، اور ووٹنگ کا موجودہ تصور اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس وقت کی شریعت کورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف 1989 میں اپیلیں دائر کر دی تھیں، جن پر آج تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔
قانونی حلقوں کے مطابق اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہونے سے نہ صرف انتخابی ڈھانچے کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے سوال پر نئی بحث جنم لے گی بلکہ اس کے ممکنہ اثرات آئینی، سیاسی اور جمہوری نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالتِ عظمیٰ کسی بڑے اصولی فیصلے تک پہنچتی ہے تو یہ پاکستان کے انتخابی نظام، نمائندگی کے طریقہ کار اور سیاسی سرگرمیوں کے پورے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔