زہری میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن درست ثابت، مقامی لوگوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کا کردار تسلیم
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
بلوچستان کے پرامن علاقے زہری نے رواں سال جنوری میں اچانک پرتشدد واقعات کا سامنا کیا، جب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں نے بینکوں پر حملے کیے، دکانیں لوٹیں اور مقامی آبادی سے بھتہ وصول کیا۔ عوام کی فوری اپیل پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر مبنی محدود اور ہدفی آپریشن شروع کیا تاکہ علاقے کو دہشتگرد عناصر سے پاک کر کے امن و تحفظ بحال کیا جا سکے۔
ابتدائی طور پر بعض حلقوں نے سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر اور گمراہ کن دعوے پھیلائے، تاہم مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ کارروائی صرف دہشتگردوں کے خلاف کی گئی تھی اور عام شہریوں یا املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والا فتنہ الہند کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ آپریشن مقامی آبادی کی درخواست پر کیا گیا، جس کا مقصد بھتہ خوری، تخریب کاری اور شہریوں کے خلاف تشدد میں ملوث عناصر کا خاتمہ تھا۔ کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ انجام دی گئیں تاکہ علاقے کے مکینوں، کاروباروں اور تعلیمی سرگرمیوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔
فورسز کا کہنا ہے کہ زہری میں کسی بھی شہری کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا گیا، تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئیں اور عوامی تحفظ کو ہر مرحلے میں مقدم رکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط اطلاعات اور مبالغہ آمیز پروپیگنڈا کے برعکس اسپتالوں کے ریکارڈ یا کسی میڈیکل شواہد میں کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ماہرین کے مطابق یہ پروپیگنڈا مہم دراصل ایک منظم سازش کا حصہ تھی، جس کا مقصد بداعتمادی اور انتشار پیدا کرنا تھا۔
آج زہری کی سڑکیں کھلی ہیں، بازار آباد ہیں اور بچے خوف کے بغیر اسکول جا رہے ہیں۔ مقامی برادری نے امن کی بحالی میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ اب عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد اور تعاون کے باعث علاقے میں ایک نیا پُرامن اور خوشحال ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔
حکومتِ پاکستان بلوچستان ڈیویلپمنٹ پیکیج کے تحت زہری سمیت صوبے میں تعلیم، صحت، سڑکوں اور روزگار کے منصوبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
نئے اسکولوں، کلینکس اور کاروباری مراکز کی تعمیر سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ امن کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ترقی ہے، ہتھیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، صدر و وزیراعظم کا خراج تحسین
زہری کے نوجوان اب کتابوں اور تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں، اور ان کی توجہ ایک بہتر مستقبل کی تشکیل پر ہے۔ علاقے میں پروپیگنڈے کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ مقامی آبادی اب غلط بیانیوں سے متاثر ہونے کے بجائے ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
زہری کا سفر غیر یقینی سے امن کی طرف حوصلے اور امید کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں کے عوام نے خوف کے بجائے امید اور ترقی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ زہری کی کامیابی کا پیمانہ لڑائیوں نہیں بلکہ بحال شدہ زندگیوں، محفوظ دلوں اور روشن دنوں میں دیکھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان بی ایل اے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن زہری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بی ایل اے دہشتگردوں کے خلاف ا پریشن وی نیوز سیکیورٹی فورسز کے خلاف
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔