بلوچستان میں معیاری تعلیم اور بہتر صحت کے وژن کے تحت صوبے کے 5 اضلاع میں 5 ہزار پرائمری طلبا کی ہیلتھ اسکریننگ کا پروگرام شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ اقدام یورپی یونین اور یونیسف کے تعاون سے محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیرِ انتظام جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کی نگرانی سیکرٹری تعلیم بلوچستان اسفند یار کاکڑ کر رہے ہیں، جبکہ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن اختر کھیتران اس منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔ منصوبے کا مقصد بچوں کی جسمانی صحت، صفائی اور طبی نگہداشت کو بہتر بنانا ہے تاکہ ایک صحت مند اور باشعور نسل تیار کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی ادارۂ صحت کا بھارتی ساختہ کھانسی کی ادویات پر انتباہ

پروگرام کا آغاز لورالائی سے کیا گیا، جہاں 8 اسکولوں کے ایک ہزار طلبہ کی ہیلتھ اسکریننگ مکمل ہو چکی ہے۔ اس عمل میں ای این ٹی اسپیشلسٹ، ڈینٹسٹ، فزیشن اور دیگر ماہر ڈاکٹروں نے بچوں کا معائنہ کیا اور انہیں صحت سے متعلق مفید رہنمائی فراہم کی۔ دوسرا مرحلہ پیر سے نوشکی میں شروع ہوگا، جس کے بعد یہ پروگرام گوادر، کیچ اور لسبیلہ میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

مجموعی طور پر 5 ہزار سے زائد طلبہ کی اسکریننگ کی جائے گی۔ حکومت بلوچستان کے مطابق یہ منصوبہ وزیرِاعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید درانی کے وژن کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد تعلیم اور صحت کے میدان میں صوبے کے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذہنی صحت صحت طلبا ہیلتھ اسکریننگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہیلتھ اسکریننگ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے