مفت تعلیم ، سکالرشپ دینے کا اعلان ، اہل کون سے نوجوان ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
شہباز علی: کرکٹ کھیلو،تعلیم بھی جاری رکھو، نوجوان کرکٹرز کو تعلیمی سکالرشپ ملیں گی، پی سی بی اور ایجوکیشن سروسز لمیٹڈ بیکن ہاؤس میں معاہدہ طے پا گیا۔
کرکٹرز کےلئے تعلیمی سکالر شپ دینے کیلئے معاہدہ کیا گیا، پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں معاہدے پر دستخط کی پروقار تقریب منعقد کی گئی، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نےبطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد نے معاہدے پر دستخط کئے، بیکن ہاؤس کے چیف ایگزیکٹو قاسم قصوری نے معاہدے پر دستخط کئے۔
دکی ؛ کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے دو کان کن جاں بحق
ملک کے 16 ریجنز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو مفت تعلیم دی جائے گی، انڈر 15، 17 ،انڈر 19 کیٹیگریز کے 120 نمایاں کھلاڑیوں تعلیم دی جائیگی۔
نوجوان کرکٹرز کیلئے تعلیمی وظائف کا معاہدہ 3 برس تک نافذ العمل رہے گا، محسن نقوی نے نوجوان کھلاڑیوں کیلئے تعلیمی معاونت پر بیکن ہاؤس کے اقدام کوسراہا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نوجوان کرکٹرز کھیل کے ساتھ تعلیم پر بھی پوری توجہ دے سکیں گے، نوجوان کرکٹرز کے تعلیمی وظائف کا معاہدہ دورس نتائج کا حامل ہو گا،مستقبل کے کرکٹ سٹارز کی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سے قمر زمان کائرہ کی ملاقات،سیاسی صورتحال اور پارٹی امور پر گفتگو
چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ تعلیمی سکالرشپ کا دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی ، بلاشبہ یہ شراکت داری نوجوان کرکٹرز کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے۔
تقریب میں پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے شرکت کی، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی، جی ایم ڈومیسٹک جنید ضیا، بیکن ہاؤس کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی احمد خان، اے ڈی آپریشنز فیصل نثار، جنرل منیجر سیدہ ارم نقوی اور منیجر سپورٹس تانیا ملک نے تقریب میں شرکت کی۔
محمد رضوان کی ون ڈے کی کپتانی خطرے میں، نیا کپتان کون ہوگا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نوجوان کرکٹرز بیکن ہاؤس پی سی بی
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔