افغان شہری کی گرفتاری ِ اعترافی بیان سے پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کا نیٹ ورک بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
لاہور (آئی این پی )پاکستان میں افغان شہریوں کی جانب سے دہشت گردی پھیلانے کا منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا، تلہ گنگ سے افغان شہری کی گرفتاری اور اعترافی بیان نے افغان دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔تلہ گنگ سے گرفتار افغان دہشت گرد نے کہا کہ میرا نام قاسم عرف حسن ہے اور میرے والد کا نام لال خان ہے۔گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ میری قوم دلوذی اور میں افغانستان گردیزولایت کا رہنے والا ہوں، 10 سال پہلے فیملی سمیت افغانستان سے لکی مروت پاکستان میں آئے، ہم یہاں پلے بڑھے، رزق کمایا اور یہاں کے لوگوں سے بہت پیار ملا۔گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ سرہ درگہ میں میری 2025 ء میں طالبان کمانڈر ارمانی کے ساتھ ملاقات ہوئی، طالبان کمانڈر ارمانی نے مجھیاپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت دی اور میں شامل ہوگیا، پہلی دفعہ میں نے تنظیم میں 20دن گزارے اور کمانڈر ارمانی نے مجھے فدائی کرنے کا کہا۔مزید انکشافات کرتے ہوئے گرفتار دہشت گرد نے بتایا کہ کمانڈر ارمانی نے مجھے اور فاروق نامی ساتھی کو تاجوڑی میں فوجی قلعے پر فدائی کرنے کی غرض سے ریکی کروائی لیکن مناسب موقع نہ ملنے پر ہم فوجی قلعے پر فدائی حملہ نہیں کر سکے۔دہشت گرد قاسم عرف حسن نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد کمانڈر ارمانی کے مشورے پر میں تنظیم میں واپس چلا گیا، تنظیم میں کمانڈر ارمانی نے مجھے نئے لوگ تلاش کرنے کے لیے کہا، میں نے 5بندے کمانڈر ارمانی کے حوالے کیے جن کے عوض مجھے فی بندہ 10ہزار روپے ملے۔دہشت گرد کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ستمبر میں میں کمانڈر ارمانی کے مشورہ پر پنجاب چلا گیا، پنجاب جانے کا مقصد لڑکے تلاش کرنا اور تنظیم میں شامل کرنا تھا۔ پنجاب میں کچھ دن گزارنے کے بعد مجھے پولیس نے گرفتار کر لیا۔گرفتار دہشت گرد کی اعترافی ویڈیو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان پہلے بھی دنیا کے سامنے دہشت گرد میں افغان سرزمین کے استعمال کے متعدد ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کمانڈر ارمانی کے گرفتار دہشت گرد پاکستان میں
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔