ویرات کوہلی مسلسل دوسرے ون ڈے میں صفر پر آؤٹ، ریٹائرمنٹ کا عندیہ دے دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ویرات کوہلی آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں مسلسل دوسرے میچ میں صفر پر آؤٹ ہوگئے۔
ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے میچ میں ویرات کوہلی 4 گیندوں پر بغیر کوئی رن بنائے زیویئر بارٹلیٹ کا شکار ہوگئے۔
اس سے قبل پرتھ میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں مچل اسٹارک نے ویرات کوہلی کو صفر پر آؤٹ کردیا تھا۔
یہ پہلا موقع ہے جب ویرات کوہلی ملسلسل دو ون ڈے میچز میں صفر پر آؤٹ ہوئے ہوں۔
ایڈیلیڈ میں آؤٹ ہونے کے بعد ویرات کوہلی نے پویلین واپس جاتے ہوئے اپنے گلوز ہاتھ میں لے کر اوپر کی جانب اٹھائے۔
کوہلی کے چہرے سے مایوسی جھلک رہی تھی، شائقین اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے لیے تالیاں بجائیں۔
VIRAT KOHLI GONE FOR HIS SECOND DUCK OF THE SERIES!#AUSvIND | #PlayoftheDay | @BKTtires pic.
ویرات کوہلی کے اس اقدام پر بھارتی صحافی وکرانت گپتا نے سوال اٹھایا کہ یہ ریٹائرمنٹ کا اشارہ ہے یا پھر وہ اپنے کیریئر کا فیصلہ کرنے کے لیے آخری ون ڈے میچ کا انتطار کریں گے۔
Are we reading too much into Virat Kohli raising his gloves to the crowd walking back after another failure? Is that a signal or will he at least wait till the last ODI before deciding on his career? #INDvsAUS pic.twitter.com/PPYQTu944g
— Vikrant Gupta (@vikrantgupta73) October 23, 2025سوشل میڈیا پر بھی شائقین کی جانب سے کوہلی کے اس اشارے کو ان کی ممکنہ ریٹائرمنٹ کا اشارہ قرار دیا جارہا ہے جبکہ بعض کا ماننا ہے کہ یہ صرف ان کا مداحوں کے لیے احترام کا اظہار تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویرات کوہلی
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔