حکومت ڈاکوئوں کو ہتھیار ڈالنے کیلئے منتیں کررہی ،جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے رھنماء علامہ حزب اللہ جکھرو نے کہا ھے کہ صوبہ سندھ میں بدامنی عروج پر ھے، حکومت ڈاکوں کو پکڑنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے کیلئے منت سماجت کررھی ھے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے رعایت کے مستحق نہیں۔اب پکے کے ڈاکو کچے کے ڈاکوؤں کو بچانے کیلئے میدان میں آگئے ھیں، مدرسہ تفھیم القرآن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ھوئے انہوں نے کہا کہ بدامنی کی وجہ سے موٹر سائیکلیں اور موبائیل چھیننے کی وارداتیں بڑھ گئی ھیں۔حزب اللہ جھکرو نے کہا کہ سندھ میں اغواء برائے تاوان اسٹریٹ کرائم ڈکیتی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے، دوسری طرف بجلی ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ھے۔ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافوں سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ھوا ھے۔حالیہ مہنگائی کی لہر سے متوسط اور غریب طبقہ میں شدید مایوسی پائی جاتی ھے، انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمت میں اضافہ کرکے حکمرانوں نے غریب پر ڈرون اٹیک کیا ھے۔انھوں نے کہا کہ صورتحال یہ ھے کہ چند یونٹ بجلی کے بل بھی ہزاروں روپے کے ارسال کئے جاتے ہیں۔ پی ڈی ایم ٹو سرکار کی حکومت نے مہنگائی میں گزشتہ حکومتوں کے بھی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اب سبزیوں کی خریداری میں بھی عوام کو دشواری پیدا ھورھی ھے ،ٹماٹر تاریخ کے بلند ریٹ پانچ سو روپے کلو فروخت ھورھے ھیں ،گھی ،دالیں،آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررھی ھیں، انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرکے ریلیف دے۔ مھنگائی کی وجہ سے مزدور طبقہ خودکشی کرنے پر مجبور ہے، وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔