data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے رھنماء علامہ حزب اللہ جکھرو نے کہا ھے کہ صوبہ سندھ میں بدامنی عروج پر ھے، حکومت ڈاکوں کو پکڑنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے کیلئے منت سماجت کررھی ھے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے رعایت کے مستحق نہیں۔اب پکے کے ڈاکو کچے کے ڈاکوؤں کو بچانے کیلئے میدان میں آگئے ھیں، مدرسہ تفھیم القرآن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ھوئے انہوں نے کہا کہ بدامنی کی وجہ سے موٹر سائیکلیں اور موبائیل چھیننے کی وارداتیں بڑھ گئی ھیں۔حزب اللہ جھکرو نے کہا کہ سندھ میں اغواء برائے تاوان اسٹریٹ کرائم ڈکیتی اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے، دوسری طرف بجلی ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ھے۔ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافوں سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ھوا ھے۔حالیہ مہنگائی کی لہر سے متوسط اور غریب طبقہ میں شدید مایوسی پائی جاتی ھے، انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمت میں اضافہ کرکے حکمرانوں نے غریب پر ڈرون اٹیک کیا ھے۔انھوں نے کہا کہ صورتحال یہ ھے کہ چند یونٹ بجلی کے بل بھی ہزاروں روپے کے ارسال کئے جاتے ہیں۔ پی ڈی ایم ٹو سرکار کی حکومت نے مہنگائی میں گزشتہ حکومتوں کے بھی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اب سبزیوں کی خریداری میں بھی عوام کو دشواری پیدا ھورھی ھے ،ٹماٹر تاریخ کے بلند ریٹ پانچ سو روپے کلو فروخت ھورھے ھیں ،گھی ،دالیں،آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررھی ھیں، انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرکے ریلیف دے۔ مھنگائی کی وجہ سے مزدور طبقہ خودکشی کرنے پر مجبور ہے، وفاقی حکومت.

نے آئی ایم ایف کی ھدایات پر عمل کرکے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ھے۔

نمائندہ جسارت گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان