عدلیہ میں اصلاحات ایک نئے دور کا آغاز ہے: چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
سپریم کورٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے عدالتی نظام کی بہتری پر تمام ججز اور اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اورہائی کورٹس، ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کو سراہا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ میں اصلاحات ادارہ جاتی تعاون کا نتیجہ ہیں،اصلاحات ایک نئے دور کا آغاز ہیں، اصلاحات کا مقصد ایسا نظامِ انصاف جو بروقت، شفاف اور عوام دوست ہو، 45 سال بعد سپریم کورٹ رولز 2025 کے نفاذ سے ڈیجیٹل دور کا آغاز ہوا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 کا مقصد شفافیت، تیز انصاف اور ڈیجیٹل سہولت ہے، سال 2025 میں 22848 مقدمات دائر، 27228 مقدمات کے فیصلے ہوئے، مجموعی زیرِ التوا مقدمات 60410 سے کم ہوکر 55951 رہ گئے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ سزائے موت، عمر قید، خاندانی، ٹیکس، سروس مقدمات کو ترجیح دی گئی، عدالتی کارکردگی کی نگرانی کیلئے جوڈیشل ڈیش بورڈکا اجرا ہوا، ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت 1.
واضح رہے جوڈیشل کونسل نے ایک سال میں 130 شکایات نمٹائیں، پاکستان سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا، جوڈیشل کمیشن کے 31 اجلاسوں میں 53 ججز کی تقرری کی سفارش کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دور کا ا غاز چیف جسٹس
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔