انڈے پھینکنے کے واقعے پر چاہت فتح علی خان کا ردعمل بھی آگیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
معروف انٹرنیٹ سنسیشن اور گلوکار چاہت فتح علی خان نے بیرون ملک اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے کے بارے میں بات کی ہے۔ چاہت فتح علی خان جو دنیا بھر میں اپنے وائرل ہونے والے گانے "بدو بدی" اور مزاحیہ انداز کی وجہ سے مشہور ہیں، پر گزشتہ ماہ ایک ریسٹورنٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے دوران ایک نامعلوم افراد نے اُن پر انڈوں سے حملہ کیا تھا۔ چاہت فتح علی خان تقریب میں شرکت کے بعد ریسٹورنٹ سے باہر نکل رہے تھے کہ سیکیورٹی گارڈز نے ان کی تصاویر لینا چاہیں۔ اسی دوران اچانک چند لوگوں نے ان پر انڈے پھینکے، یہ واقعہ گلوکار کیلئے تکلیف دہ اور ذلت آمیز تھا اور وہ اس وقت حیران اور رنجیدہ رہ گئے۔ گزشتہ دنوں ایک شو کے دوران چاہت فتح علی خان نے انکشاف کیا تھا کہ واقعے کے بعد ریسٹورنٹ انتظامیہ نے تعاون نہیں کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج دینے سے بھی انکار کر دیا، بعد میں پتہ چلا کہ ریسٹورنٹ کے مالک کا تعلق بھارت سے ہے جس کے بعد میں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید مجھے نشانہ بنایا گیا ہے۔ چاہت فتح علی خان نے مزید کہا، میں اس واقعے پر قانونی کارروائی کر رہا ہوں۔ تاکہ ملزمان کو سزا دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔