جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی آرمی چیف کا حماس کیخلاف جنگ جاری رکھنےکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل کے جنگی عزائم کم نہ ہوئے، اور اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے واضح اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جاری کارروائی اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حماس کے قبضے سے آخری مغوی کی لاش واپس نہیں لائی جاتی۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر خطے میں جاری کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
اپنے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ اسرائیلی فوج مستقبل کی جانب دیکھ رہی ہے، مگر ماضی کے بوجھ اور قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والے تجربات اور غلطیوں سے سیکھنا ہمارا اخلاقی اور پیشہ ورانہ فریضہ ہے، اور ہم اس ذمہ داری کو عزم و ہمت کے ساتھ پورا کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ جنگ ابھی اپنے اختتامی مرحلے میں نہیں پہنچی، فوج کو اپنے مشن کی تکمیل تک میدان میں ڈٹے رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغویوں کی واپسی اور حماس کے خلاف آپریشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ ہر ممکن چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں، کیونکہ حالات کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔