Islam Times:
2026-07-24@09:18:47 GMT

اسٹریٹیجک ڈیبتھ

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

اسٹریٹیجک ڈیبتھ

اسلام ٹائمز: اول یہ کہ طالبان ایک حقیقت ہیں۔ دوم یہ کہ ان کا افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر قبضہ ہے۔ طالبان کی اس سے بڑھ کر ترجمانی عمران خان کرتے تھے۔ اپنے اقتدار کے آخری دور میں انہوں نے جنرل فیض حمید سے مل کر دوبارہ طالبان کو افغانستان میں اقتدار دلوایا۔ بہرحال ہماری ناکامی کہ ہم افغانستان میں دور تک تزویراتی گہرائی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک ایسے گڑھے میں چھلانگ لگا بیٹھے ہیں جہاں سے نکلنا جہنم کی تہ سے نکلنے کے مترادف ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

قتیل شفائی کا ایک معروف شعر ہے کہ:
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ منگو
اچھے شعر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ دل سے نکلتا ہے اور دل پر اثر کرتا ہے۔ شاعری کا ایک موضوع محبوب کی بے وفائی کی تشہیر ہے۔ محبوب اگر قاتل ہے تو شاعر اپنے قاری کو اس کے دام فریب سے بچنے کا مشورہ دیتا ہے۔ آج کے سیاسی منظر نامے میں ہمیں کسی ایسے محبوب سے واسطہ پڑا ہے جو ہمارے خون کا ”طالب“ ہے لیکن ہم اس سے وفا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ افغانستان کی ”اسٹریٹیجک ڈیبتھ“ سے نکلا ہوا ہمارا یہ قیمتی خزانہ، جو ہم نے مشکل وقت کے لیے سنبھال رکھا تھا، آخرکار ہمارے لیے دھماکہ خیز مواد ثابت ہوا ہے۔ ہماری بے وقوفی یہ تھی کہ ہم زمین کی گہرائی سے برآمد ہونے والے اس خزینے کو بغیر اس کا کیمیائی تجزیہ کیے، اپنے گھر لے آئے اور اسے اپنا اثاثہ بنا بیٹھے۔

افغانستان کے کہساروں میں”خزانے کی تلاش“ کے نام سے شروع کی گئی مہم کے لیے پینٹا گون کی خواہش کے مطابق جو نقشہ تیار کیا گیا وہ افغانستان کی اصل جغرافیائی صورت حال کو جانے بغیر یا جان بوجھ کر اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔ ہم نے اپنے منصوبے پر عمل کرتے وقت خاص طور پر زبان کارڈ کا استعمال کیا۔ ہماری سرحدوں سے جڑے پشتون علاقے میں پشتو بولی جاتی ہے۔ ہم نے سمجھا کہ پشتو کیونکہ ہمارے اپنے ایک صوبے کی زبان ہے اس لیے اس مہم جوئی میں پشتون ہمارے سہولت کار بنیں گے۔

ہمارے ابن بطوطہ یہ سمجھتے رہے تھے کہ افغانستان جلال آباد سے کابل تک کا کوئی علاقہ ہے اور اس کے بعد جو علاقہ شروع ہوتا ہے وہ ”علاقہ غیر“ ہے۔ ہمیں نہیں خبر تھی کہ افغانستان کا خاصا بڑا حصہ فارسی بولنے والی اقوام پر مشتمل ہے۔ انگریز جب برصغیر سے رخصت ہوئے تو وہ جاتے ہوئے ہمارے آباو اجداد کی زبان فارسی کو بھی جلیانوالہ باغ کی طرح پامال کر گئے۔ قوموں کے درمیان باہمی ارتباط کا بڑا ذریعہ زبان ہوتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے افغانستان کی تاجک، ازبک اور ہزارہ قومیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام ہمارے لیے غیر ہیں۔

زبان کے علاوہ ہم نے اپنے اس تاریخی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک خاص قسم کی مذہبیت کو بھی استعمال کیا۔ ایسی مذہبیت جس میں تشدد پسندی کا عنصر غالب تھا۔ ہم نے اپنے اس مشن کے تکمیل کے لیے ایسے مذہبی جنونی افراد کو تربیت دے کر افغانستان کی جانب دھکیلا جو بالآخر کسی مس گائڈڈ میزائل کی طرح پلٹ کر ہمارے ہی سروں پر آ برسے۔ ایک وقت تک ہمارے حکمران ان کے باقائدہ ترجمان بنے رہے۔ نائن الیون سے پہلے جب جنرل مشرف سے سوال کیا جاتا تھا کہ آپ طالبان کی دہشت پسندی کو دیکھتے ہوئے بھی کیوں ان کی حمایت کرتے ہیں تو وہ جواب میں کہتے تھے کہ ہم دو وجوہات کی بناء پر طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔

اول یہ کہ طالبان ایک حقیقت ہیں۔ دوم یہ کہ ان کا افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر قبضہ ہے۔ طالبان کی اس سے بڑھ کر ترجمانی عمران خان کرتے تھے۔ اپنے اقتدار کے آخری دور میں انہوں نے جنرل فیض حمید سے مل کر دوبارہ طالبان کو افغانستان میں اقتدار دلوایا۔ بہرحال ہماری ناکامی کہ ہم افغانستان میں دور تک تزویراتی گہرائی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک ایسے گڑھے میں چھلانگ لگا بیٹھے ہیں جہاں سے نکلنا جہنم کی تہ سے نکلنے کے مترادف ہے۔ ہم نے اپنا جان کر جن کے لیے اپنے دروازے کھولے وہ اب اپنے علاقے میں ہمارے دشمنوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے
ہمارا یہ اثاثہ اب ہمارے لیے وبال جان بنا ہوا ہے۔ یہ طالبان نہ جانے اب ہم سے کس چیز کے طالب ہیں؟ شاید یہ اٹک کے پل تک ہماری پاک سر زمین کو اپنی امارت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہماری سرحد کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے ایسی ڈیورنڈ لائن سمجھتے ہیں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور جسے وہ کسی وقت بھی اپنی مرضی کے مطابق پار کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان کی طالبان کی کے لیے

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی