اسلام ٹائمز: اول یہ کہ طالبان ایک حقیقت ہیں۔ دوم یہ کہ ان کا افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر قبضہ ہے۔ طالبان کی اس سے بڑھ کر ترجمانی عمران خان کرتے تھے۔ اپنے اقتدار کے آخری دور میں انہوں نے جنرل فیض حمید سے مل کر دوبارہ طالبان کو افغانستان میں اقتدار دلوایا۔ بہرحال ہماری ناکامی کہ ہم افغانستان میں دور تک تزویراتی گہرائی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک ایسے گڑھے میں چھلانگ لگا بیٹھے ہیں جہاں سے نکلنا جہنم کی تہ سے نکلنے کے مترادف ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
قتیل شفائی کا ایک معروف شعر ہے کہ:
یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ منگو
اچھے شعر کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ دل سے نکلتا ہے اور دل پر اثر کرتا ہے۔ شاعری کا ایک موضوع محبوب کی بے وفائی کی تشہیر ہے۔ محبوب اگر قاتل ہے تو شاعر اپنے قاری کو اس کے دام فریب سے بچنے کا مشورہ دیتا ہے۔ آج کے سیاسی منظر نامے میں ہمیں کسی ایسے محبوب سے واسطہ پڑا ہے جو ہمارے خون کا ”طالب“ ہے لیکن ہم اس سے وفا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ افغانستان کی ”اسٹریٹیجک ڈیبتھ“ سے نکلا ہوا ہمارا یہ قیمتی خزانہ، جو ہم نے مشکل وقت کے لیے سنبھال رکھا تھا، آخرکار ہمارے لیے دھماکہ خیز مواد ثابت ہوا ہے۔ ہماری بے وقوفی یہ تھی کہ ہم زمین کی گہرائی سے برآمد ہونے والے اس خزینے کو بغیر اس کا کیمیائی تجزیہ کیے، اپنے گھر لے آئے اور اسے اپنا اثاثہ بنا بیٹھے۔
افغانستان کے کہساروں میں”خزانے کی تلاش“ کے نام سے شروع کی گئی مہم کے لیے پینٹا گون کی خواہش کے مطابق جو نقشہ تیار کیا گیا وہ افغانستان کی اصل جغرافیائی صورت حال کو جانے بغیر یا جان بوجھ کر اس سے چشم پوشی کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا۔ ہم نے اپنے منصوبے پر عمل کرتے وقت خاص طور پر زبان کارڈ کا استعمال کیا۔ ہماری سرحدوں سے جڑے پشتون علاقے میں پشتو بولی جاتی ہے۔ ہم نے سمجھا کہ پشتو کیونکہ ہمارے اپنے ایک صوبے کی زبان ہے اس لیے اس مہم جوئی میں پشتون ہمارے سہولت کار بنیں گے۔
ہمارے ابن بطوطہ یہ سمجھتے رہے تھے کہ افغانستان جلال آباد سے کابل تک کا کوئی علاقہ ہے اور اس کے بعد جو علاقہ شروع ہوتا ہے وہ ”علاقہ غیر“ ہے۔ ہمیں نہیں خبر تھی کہ افغانستان کا خاصا بڑا حصہ فارسی بولنے والی اقوام پر مشتمل ہے۔ انگریز جب برصغیر سے رخصت ہوئے تو وہ جاتے ہوئے ہمارے آباو اجداد کی زبان فارسی کو بھی جلیانوالہ باغ کی طرح پامال کر گئے۔ قوموں کے درمیان باہمی ارتباط کا بڑا ذریعہ زبان ہوتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے افغانستان کی تاجک، ازبک اور ہزارہ قومیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام ہمارے لیے غیر ہیں۔
زبان کے علاوہ ہم نے اپنے اس تاریخی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک خاص قسم کی مذہبیت کو بھی استعمال کیا۔ ایسی مذہبیت جس میں تشدد پسندی کا عنصر غالب تھا۔ ہم نے اپنے اس مشن کے تکمیل کے لیے ایسے مذہبی جنونی افراد کو تربیت دے کر افغانستان کی جانب دھکیلا جو بالآخر کسی مس گائڈڈ میزائل کی طرح پلٹ کر ہمارے ہی سروں پر آ برسے۔ ایک وقت تک ہمارے حکمران ان کے باقائدہ ترجمان بنے رہے۔ نائن الیون سے پہلے جب جنرل مشرف سے سوال کیا جاتا تھا کہ آپ طالبان کی دہشت پسندی کو دیکھتے ہوئے بھی کیوں ان کی حمایت کرتے ہیں تو وہ جواب میں کہتے تھے کہ ہم دو وجوہات کی بناء پر طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔
اول یہ کہ طالبان ایک حقیقت ہیں۔ دوم یہ کہ ان کا افغانستان کے نوے فیصد علاقے پر قبضہ ہے۔ طالبان کی اس سے بڑھ کر ترجمانی عمران خان کرتے تھے۔ اپنے اقتدار کے آخری دور میں انہوں نے جنرل فیض حمید سے مل کر دوبارہ طالبان کو افغانستان میں اقتدار دلوایا۔ بہرحال ہماری ناکامی کہ ہم افغانستان میں دور تک تزویراتی گہرائی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک ایسے گڑھے میں چھلانگ لگا بیٹھے ہیں جہاں سے نکلنا جہنم کی تہ سے نکلنے کے مترادف ہے۔ ہم نے اپنا جان کر جن کے لیے اپنے دروازے کھولے وہ اب اپنے علاقے میں ہمارے دشمنوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے
ہمارا یہ اثاثہ اب ہمارے لیے وبال جان بنا ہوا ہے۔ یہ طالبان نہ جانے اب ہم سے کس چیز کے طالب ہیں؟ شاید یہ اٹک کے پل تک ہماری پاک سر زمین کو اپنی امارت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہماری سرحد کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے ایسی ڈیورنڈ لائن سمجھتے ہیں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور جسے وہ کسی وقت بھی اپنی مرضی کے مطابق پار کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان کی طالبان کی کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔