فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، یورپی یونین روس کو وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لین نے کہا ہے کہ یورپی یونین اپنی فضائی حدود یا سرزمین پر کسی بھی دراندازی کو برداشت نہیں کرے گی جبکہ یورپ اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مربوط اقدامات کررہا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق اسٹاک ہوم میں نارتھک کونسل سمٹ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ارسولا فان ڈیر لین نے روس کے حالیہ فضائی خلاف ورزیوں کو اشتعال انگیزی اور ہائبرڈ خطرہ قرار د یتے ہوئے کہاکہ یہ ایک اشتعال انگیز عمل ہے، ایک ہائبرڈ خطرہ ہے، جسے ہم کسی طور برداشت نہیں کریں گے، یورپی یونین اپنی فضائی اور زمینی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل تیار ہے اور اسی مقصد کے لیے دفاعی تیاریوں کا نیا روڈ میپ تیار کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین ریڈینس روڈ میپ کے تحت نئی دفاعی حکمت عملیوں پر کام کررہی ہے جن میں ایسٹرن فلینک واچ اور ڈرون وال جیسے اقدامات شامل ہیں تاکہ مشرقی یورپ کی سرحدوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یوکرین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ارسولا فان ڈیر لین نے کہا کہ یورپی یونین یوکرین کے لیے طویل المدتی حمایت جاری رکھے گی اور روس کے منجمد اثاثوں کو استعمال کرنے کی قانونی تجویز پر غور ہورہا ہے تاکہ 2027 تک یوکرین کی مالی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم تجویز پیش کررہے ہیں کہ روس کے منجمد اثاثوں کے نقد ذخائر سے یوکرین کو قرض دیا جائے جو اسے روس کی جانب سے ہرجانہ ادا کیے جانے کی صورت میں واپس کرنا ہوگا، یہ ایک پیچیدہ لیکن قانونی طور پر مضبوط تجویز ہے، ہمارا پیغام روس کے لیے بالکل واضح ہے، ہم طویل عرصے تک یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی مالی ضروریات پوری کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین کے لیے روس کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔