اپنے ایک بیان میں محمد الحاج موسیٰ کا کہنا تھا کہ قابض رژیم، ہیوی مشینری یا تکنیکی معاونت کی ٹیموں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک کر، اپنے قیدیوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ جو کہ عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور مزاحمت کو قصوروار ٹھہرانے کی ایک کوشش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "جهاد اسلامی" كے ترجمان "محمد الحاج موسیٰ" نے اعلان كیا كہ گزشتہ شب جو کچھ ہوا وہ قابضین کی جانب سے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں، بالخصوص بے گھر افراد کے خیموں پر وحشیانہ بمباری کے ذریعے نہتے شہریوں کا قتل عام کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے خلاف قتل عام کا ارتکاب، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل، مسلسل دہشت گردی کی پالیسی کے ساتھ ساتھ، غزہ میں شہریوں اور بچوں کے خلاف اپنے منظم حملے جاری رکھے ہوئے ہے، نیز اپنے جرائم کا جواز پیش کرنے کے لئے جھوٹے اور بے بنیاد بہانوں کا سہارا بھی لے رہا ہے۔ قابض رژیم نہ تو انسانیت کے لحاظ سے اور نہ ہی عملی طور پر معاہدے کی شرائط پر کسی طرح پابند ہے۔ وہ روزانہ اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں فلسطین کے مقاومتی گروہ جنگ بندی کے اعلان کے پہلے دن سے ہی، اس معاہدے پر کاربند ہیں۔ ان گروہوں نے اس معاہدے کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی نہیں کی۔
  محمد الحاج موسیٰ نے زور دے کر کہا کہ قابض رژیم، ہیوی مشینری یا تکنیکی معاونت کی ٹیموں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک کر، اپنے قیدیوں کی لاشوں کو ڈھونڈنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ جو کہ عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور مزاحمت کو قصوروار ٹھہرانے کی ایک کوشش ہے۔ جھاد اسلامی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ثالثوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صیہونی کابینہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف سخت و ٹھوس موقف اختیار کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکی حکومت کو اسرائیلی جرائم کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ صیہونی جرائم کا جواز گھڑنے کی بجائے، اسرائیل سے جنگ بندی کے معاہدے میں طے ہونے والی شرائط پر عمل کروائے۔ آخر میں محمد الحاج موسیٰ نے اعلان کیا کہ ہم غزہ کی حمایت اور دشمن کی خلاف ورزیوں کو مسترد کرتے ہوئے عوامی تحریکوں کے اٹھنے پر زور دیتے ہیں، کیونکہ یہ تحریکیں دشمن پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: الحاج موسی معاہدے کی کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران