اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی، حماس نے مغویوں کی لاشوں کی حوالگی مؤخر کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث مغویوں کی لاشوں کی حوالگی مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج کے جاری فضائی اور زمینی حملے نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ کارروائیاں یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش اور ان کی حوالگی کے عمل میں سنگین رکاوٹ بن رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی جارحیت نے غزہ میں انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ امدادی عملہ اور بین الاقوامی ادارے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ القسام بریگیڈز کے مطابق، اسرائیلی فوج کے حملے اس وقت جاری ہیں جب جنگ بندی معاہدے کے تحت فریقین کو تمام کارروائیاں روکنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ حماس نے گزشتہ روز ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیلی فورسز کی جانب سے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کے بعد اس عمل کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا۔
حماس نے اپنے بیان میں اسرائیلی بمباری کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ رفح کراسنگ کی مسلسل بندش بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
تنظیم نے جنگ بندی کے ضامن ممالک — خصوصاً امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ — سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جارحیت بند کرے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے اور معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگ بندی معاہدے معاہدے کی خلاف ورزی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔