غزہ پھر زیرعتاب: نیتن یاہو نے ’فوری اور بھرپور‘ حملوں کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ پر فوری اور طاقتور حملے کردے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ: ملبہ بنے گھروں اور بارود بھری گلیوں کی سمت شہریوں کی واپسی جاری
الجزیرہ کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حماس کی جانب سے جنگ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کے جواب میں کی جا رہی ہے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملے کس وقت اور کن علاقوں میں کیے جائیں گے لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس نے اب تک 13 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں جو جنگ کے دوران غزہ میں ہلاک ہوئے تھے۔
حماس کا موقف: لاشوں کی برآمدگی میں رکاوٹیںحماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں لاشوں کی تلاش اور نکالنے کے لیے خصوصی ٹیموں اور بھاری مشینری کی مدد درکار ہے۔
اسرائیل نے حالیہ دنوں میں کچھ مشینری کے داخلے کی اجازت دی تاہم اب تک تمام لاشوں کو ملبے کے نیچے سے برآمد نہیں کیا جا سکا۔
میڈی ایٹرز، اسرائیلی اور امریکی حکام (جن میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں) پہلے سے جانتے تھے کہ لاکھوں ٹن ملبے کے نیچے دبے قیدیوں کی لاشیں نکالنا ایک نہایت مشکل کام ہوگا۔
آج کے واقعات جنہوں نے حملے کے فیصلے کی راہ ہموار کیاسرائیلی میڈیا اور حکومتی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کے تازہ حکم سے قبل دن بھر کئی اہم پیش رفت ہوئیں۔
تقریباً ایک گھنٹہ قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم حالات کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ اس نے حالیہ واپس کی گئی لاش کی شناخت غلط بتائی دراصل وہ 2 سال قبل برآمد ہونے والے ایک مغوی کی لاش تھی۔
مزید پڑھیے: ترک وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، غزہ میں امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال
نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں کیونکہ حماس نے پہلے سے برآمد شدہ قیدی کی لاش دوبارہ واپس کی۔
اسرائیلی فوج نے مزید الزام لگایا کہ حماس نے ریڈ کراس کے سامنے ’لاشوں کی واپسی کا ڈرامہ‘ رچایا اور دعویٰ کیا کہ ڈرون فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ لاشوں کو حرکت دے کر دوبارہ دفنایا گیا تاکہ ریڈ کراس کے نمائندے اسے دیکھ سکیں۔
دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل لاشوں کی برآمدگی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، بھاری مشینری کو داخل ہونے سے روک رہا ہے اور ریڈ کراس کے اہلکاروں سمیت تلاش کرنے والی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دے رہا۔
بعد ازاں حماس نے اعلان کیا کہ وہ ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے (18:00 جی ایم ٹی) واپس کرے گا جو غزہ کے ایک سرنگ سے ملی تھی۔ تاہم یہ عمل نیتن یاہو کے ’طاقتور حملے‘ کے اعلان کے بعد مؤخر کر دیا گیا۔
تجزیہ کار پہلے ہی خبردار کرچکے تھےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ میں جاری جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔
یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات سے وابستہ ماہر محمد شہادہ نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ نیتن یاہو ابتدا ہی سے جنگ بندی کو ختم کرنے کا بہانہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں نسل کشی دوبارہ شروع کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود رفح کراسنگ کھولنے سے انکار کیا ہے، امداد کے حجم کو محدود کر رکھا ہے اور بغیر ثبوت کے وقفے وقفے سے بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔
جنگ بندی کی حدود جانچنے کی کوشششہادہ کے مطابق اسرائیلی قیادت دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کی حدود کو پرکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بار بار ایک ہی طرز عمل دیکھ رہے ہیں کہ نیتن یاہو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی حد جانچ رہے ہیں اور آہستہ آہستہ اس بنیاد پر غزہ میں دوبارہ جنگ چھیڑنے کے لیے جواز تیار کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی نگرانی: اسرائیل نے ترک فوجیوں کی تعیناتی مسترد کردی
اس طرح جو فلسطینی شہری جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کی جانب لوٹے ہیں گو ان میں سے اکثر کے گھر اب ملبے کا ڈھیر ہی ہیں ان کی زندگی پھر خطرے میں پڑچکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ غزہ پر پھر حملہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ پر پھر حملہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی اسرائیل نے کر رہے ہیں نیتن یاہو کے مطابق لاشوں کی کی لاش
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔