اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ پر فوری اور طاقتور حملے کردے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ: ملبہ بنے گھروں اور بارود بھری گلیوں کی سمت شہریوں کی واپسی جاری

الجزیرہ کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حماس کی جانب سے جنگ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کے جواب میں کی جا رہی ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ حملے کس وقت اور کن علاقوں میں کیے جائیں گے لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس نے اب تک 13 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں جو جنگ کے دوران غزہ میں ہلاک ہوئے تھے۔

حماس کا موقف: لاشوں کی برآمدگی میں رکاوٹیں

حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں لاشوں کی تلاش اور نکالنے کے لیے خصوصی ٹیموں اور بھاری مشینری کی مدد درکار ہے۔

اسرائیل نے حالیہ دنوں میں کچھ مشینری کے داخلے کی اجازت دی تاہم اب تک تمام لاشوں کو ملبے کے نیچے سے برآمد نہیں کیا جا سکا۔

میڈی ایٹرز، اسرائیلی اور امریکی حکام (جن میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں) پہلے سے جانتے تھے کہ لاکھوں ٹن ملبے کے نیچے دبے قیدیوں کی لاشیں نکالنا ایک نہایت مشکل کام ہوگا۔

آج کے واقعات جنہوں نے حملے کے فیصلے کی راہ ہموار کی

اسرائیلی میڈیا اور حکومتی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کے تازہ حکم سے قبل دن بھر کئی اہم پیش رفت ہوئیں۔

تقریباً ایک گھنٹہ قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم حالات کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔

اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ اس نے حالیہ واپس کی گئی لاش کی شناخت غلط بتائی دراصل وہ 2 سال قبل برآمد ہونے والے ایک مغوی کی لاش تھی۔

مزید پڑھیے: ترک وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، غزہ میں امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال

نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں کیونکہ حماس نے پہلے سے برآمد شدہ قیدی کی لاش دوبارہ واپس کی۔

اسرائیلی فوج نے مزید الزام لگایا کہ حماس نے ریڈ کراس کے سامنے ’لاشوں کی واپسی کا ڈرامہ‘ رچایا اور دعویٰ کیا کہ ڈرون فوٹیج سے ثابت ہوتا ہے کہ لاشوں کو حرکت دے کر دوبارہ دفنایا گیا تاکہ ریڈ کراس کے نمائندے اسے دیکھ سکیں۔

دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل لاشوں کی برآمدگی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، بھاری مشینری کو داخل ہونے سے روک رہا ہے اور ریڈ کراس کے اہلکاروں سمیت تلاش کرنے والی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دے رہا۔

بعد ازاں حماس نے اعلان کیا کہ وہ ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے (18:00 جی ایم ٹی) واپس کرے گا جو غزہ کے ایک سرنگ سے ملی تھی۔ تاہم یہ عمل نیتن یاہو کے ’طاقتور حملے‘ کے اعلان کے بعد مؤخر کر دیا گیا۔

تجزیہ کار پہلے ہی خبردار کرچکے تھے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ میں جاری جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔

یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات سے وابستہ ماہر محمد شہادہ نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ نیتن یاہو ابتدا ہی سے جنگ بندی کو ختم کرنے کا بہانہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں نسل کشی دوبارہ شروع کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود رفح کراسنگ کھولنے سے انکار کیا ہے، امداد کے حجم کو محدود کر رکھا ہے اور بغیر ثبوت کے وقفے وقفے سے بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

جنگ بندی کی حدود جانچنے کی کوشش

شہادہ کے مطابق اسرائیلی قیادت دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کی حدود کو پرکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بار بار ایک ہی طرز عمل دیکھ رہے ہیں کہ نیتن یاہو جنگ بندی کی خلاف ورزی کی حد جانچ رہے ہیں اور آہستہ آہستہ اس بنیاد پر غزہ میں دوبارہ جنگ چھیڑنے کے لیے جواز تیار کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی نگرانی: اسرائیل نے ترک فوجیوں کی تعیناتی مسترد کردی

اس طرح جو فلسطینی شہری جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کی جانب لوٹے ہیں گو ان میں سے اکثر کے گھر اب ملبے کا ڈھیر ہی ہیں ان کی زندگی پھر خطرے میں پڑچکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ غزہ پر پھر حملہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو غزہ پر پھر حملہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی اسرائیل نے کر رہے ہیں نیتن یاہو کے مطابق لاشوں کی کی لاش

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان