کمزور معاشی رجحانات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال کے باعث عالمی کمپنیوں میں ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کی جانے لگی ہے۔

عالمی خبرایجنسی کے مطابق کے مطابق دنیا بھر کی کمپنیوں نے ملازمتوں میں کٹوتی کی رفتار تیز کر دی ہے، بڑی بین الاقوامی کمپنیوں، جن میں ایمیزون (Amazon)، نیسلے (Nestlé) اور یو پی ایس (UPS) شامل ہیں، نے اخراجات میں کمی شروع کر دی ہے۔

اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایک صارفین کے اعتماد میں کمی آ رہی ہے اور دوسری طرف مصنوعی ذہانت (AI) پر مرکوز ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانی ملازمتوں کو خودکار نظام سے تبدیل کرنے لگی ہیں۔

روئٹرز کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکی کمپنیوں نے صرف رواں ماہ میں 25,000 سے زائد ملازمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس میں یو پی ایس کے 48,000 ملازمین کی کٹوتی شامل نہیں، جو 2025 کے آغاز سے لاگو ہوگی۔

یورپ میں یہ تعداد 20,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ نیسلے کا ہے، جس نے گزشتہ ہفتے 16,000 ملازمین کی کمی کا اعلان کیا تھا۔

چوں کہ امریکا کی حکومت اپنی تاریخ کے دوسرے طویل ترین شٹ ڈاؤن (تعلقاتِ عامہ کی بندش) سے گزر رہی ہے، اس لیے ملازمتوں میں کمی کے مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

نیویارک کی سرمایہ کاری کمپنی 50 پارک انویسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹیو ایڈم سرہان نے کہا کہ ایمیزون جیسی کمپنیوں میں ملازمتوں کی کٹوتی اس بات کا اشارہ ہے کہ معیشت سست پڑ رہی ہے، مضبوط نہیں ہو رہی۔ جب معیشت مضبوط ہو تو بڑے پیمانے پر ملازمین کو نہیں نکالا جاتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ملازمتوں میں رہی ہے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ