Jasarat News:
2026-07-24@06:35:28 GMT

اب وقف املاک مسلمانوں پرنئی ضرب ہے،محبوبہ مفتی

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سرینگر : جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سربراہ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ نئی UMEED ڈیٹا بیس کی رو سے ملک بھر میں 3.55 لاکھ وقف جائیدادیں غائب ہیں۔

محبوبہ مفتی نے جمعہ کو سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا کہ پورے ملک میں 3.

55 لاکھ سے زیادہ وقف جائیدادیں غائب ہیں اور صرف جموں و کشمیر میں نئے UMEED ڈیٹا بیس میں 7,240 انٹریز غائب ہو گئی ہیں۔

 یہ کمی وقف جائیدادوں کی شفافیت اور حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تشدد، انہدامی کاررائیوں، اور ووٹنگ کے حق سے محرومی کے بعد اب وقف املاک ایک طرز اور مسلمانوں کے خلاف ایک نئی ضرب ہے۔ محبوبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ”یہ مسئلہ کہاں تک پہنچے گا؟“

مرکزی حکومت کی UMEED ڈیٹا بیس میں گزشتہ سال اور اس سال کی وقف جائیدادوں میں فرق دکھایا گیا ہے۔

 محبوبہ مفتی کی جانب سے پوسٹ کیے گئے اسکرین شاٹ کے مطابق، کچھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں وقف جائیدادوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں مہاراشٹر، انڈمان اینڈ نیکوبار آئی لینڈ، دہلی، بہار اور تلنگانہ شامل ہیں۔

 باقی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں وقف جائیدادوں میں کمی آئی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایک سال میں ان جائیدادوں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ اضافہ مہاراشٹر میں ہوا ہے، جہاں وقف جائیدادوں میں 26,238 کا اضافہ ہوا۔ بہار میں بھی سنّی اور شیعہ مسلمانوں کی وقف جائیدادوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ سب سے زیادہ ”غائب“ جائیدادیں اتر پردیش میں رپورٹ ہوئیں ہیں اور سب سے کم کمی چندی گڑھ میں دیکھی گئی۔

اتر پردیش میں شیعہ مسلم وقف جائیدادوں میں 8,901 کی کمی آئی ہے، جب کہ سنّی مسلم وقف جائیدادوں میں 1,30,816 کی کمی آئی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی وقف جائیدادوں میں 7,240 کی کمی آئی ہے۔

واضح رہے کہ 6دسمبر تک UMEEDپورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن کی چھ ماہ کی مدت ختم ہوئی جس میں سب سے زیادہ جموں کشمیر وقف بورڈ نے 99.02فیصد جائیدادیں اپلوڈ کیں۔ وہیں بعض املاک لائن آف کنٹرول کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے وہ املاک رجسٹر نہیں کی جا سکیں۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی کمی آئی ہے سے زیادہ

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ