data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251201-01-8
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملک کو متحد رکھنے کے بجائے انتشار اور آمرانہ طرزِ حکمرانی کی پالیسیوں پر گامزن ہے، دو میڈیا مالکان کو صوبے تقسیم کرنے کی راہ ہموار کرنے کا ٹھیکا دینا ملک کی وحدت پر حملہ ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں شکست کے بعد حکمران عوام کے موڈ کو سمجھ لیں توان کیلئے بہتر ہوگا۔اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کی جانب سے 27ویں اور 28ویں ترمیم، عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا پاکستانی حکمران طبقے اور مقتدر اداروں کی جانب سے جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی پر حملوں کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے۔کاشف سعید شیخ نے ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں حسیب جمالی کو صدر، عارف جکھرانی نائب صدر اور میڈم فریدہ منگریو کو جنرل سیکریٹری منتخب ہونے پر دلی مبارکباد دیتے ہوئے اسے جمہوریت دشمن قوتوں کیلئے اہم پیغام قرار دیا ہے۔صوبائی امیر نے مزید کہا کہ ماضی میں شکایات کے باوجود منتخب قیادت بار اور بینچ کے درمیان پْل کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور مظلوم عوام کی داد رسی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ ہائی کورٹ بار کی نومنتخب قیادت بھی ملک میں آمرانہ طرز حکمرانی کیخلاف اور عدلیہ کی آزادی سمیت عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کیلئے اپنا بھرپور کردار دا کرے گی۔ جماعت اسلامی ہمیشہ جمہوریت کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے۔اب بھی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے واضح اعلان کیا ہے کہ ہم 26ویں اور 27ویں ترمیم کے خلاف بھرپور جدوجہد کریں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عدلیہ کی ا زادی

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ