واسا کی نااہلی کے باعث حیدرآباد میں پانی کا بحران شدت اختیا رکرگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ریحان راجپوت نے کہا ہے کہ حیدرآباد میں پانی کی بحرانی صورتحال ہے، خاص طورپر لطیف آبادکے مختلف یونٹوں، ایچ ڈی اے ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی، دامن کوہسار اور حیدرآباد میں کئی روز سے پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ واسا کا کروڑوں روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود حیدرآباد کے عوام سردی کے موسم میں بھی پانی کو ترس گئے ہیں، کوہسار میں خاص طورپر ایچ ڈی اے ایمپلائز کوآپریٹو سوسائٹی کے رہائشی افراد ٹینکر مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ ٹینکرز کے ذریعے ان علاقوں کے لوگوں کو پینے کا پانی خرید کر استعمال کیلیے لینا پڑتا ہے۔ حیدرآباد کے گنجان آباد علاقوں میں شہری روزانہ پانی کیلیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ واسا جوکہ اب کارپوریشن بن گیا ہے لیکن اس کے باوجود صورتحال پہلے سے زیادہ ابتر ہے، پانی سے متاثر ہونے والے افراد احتجاج کررہے ہیں لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں کی جارہی ہے۔ ادارے پر سفارشی اور نااہل لوگوں کا قبضہ ہے جو ادارے کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ ادارہ مکمل طورپر بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس صورتحال کا تدراک نہ کیا گیا تو پھر اس مسئلے کو نہ صرف اسمبلی میں اٹھائیں گے بلکہ اس پر شدید احتجاج بھی کیا جائیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔