دنیا کا پہلا اے آئی فوجی مید ان میں اترنے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
لاہور:
جدید عسکریات انقلاب کے دہانے پر! امریکی ٹیک کمپنی، فاؤنڈیشن نے دنیا کا پہلا اے آئی فوجی فینٹم ایم کے 1 ایجاد کر لیا۔
اس انسان نما روبوٹ کا قد 5 فٹ 9 انچ، وزن 176 پونڈ ہے اور یہ پانچ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا۔
کمپنی کا دعویٰ ہے یہ عسکری تنصیبات تعمیر کرنے، اپنے مورچوں کا دفاع اور دشمن کے مورچے تباہ کرنے میں فوج کی مدد کرتا ہے۔
امریکی فوج یہ اے آئی فوجی حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہی ہے۔
فاؤنڈیشن کا مشن ہے کہ ایسا اے آئی فوجی تخلیق کرنا جو ہروہ کٹھن و جان جوکھوں کا کام کر سکے جو انسانی فوجی انجام دیتے ہیں۔
یہ منزل پانے کے لیے کمپنی وسیع پیمانے پر تحقیق وتجربات کر رہی ہے جبکہ سرمایہ کار اسے رقم بھی فراہم کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے ا ئی فوجی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔