اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات آن لائن جمع کرانے کا نظام تیار
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات آن لائن جمع کرانے اور شائع کرنے کا نظام تیار کرلیا گیا۔وزات خزانہ کے مطابق 2026ء کے آخر تک اعلیٰ افسران کے اثاثہ جات کی تفصیلات عوام کے لیے ویب سائٹ پردستیاب ہوں گی۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ کے لیے وفاقی وصوبائی افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال بھی ہوگی، اس حوالے سے وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا ہے۔دستاویز کے مطابق گریڈ17سے 22کے افسران اپنے ملکی و غیرملکی اثاثوں کی تفصیل جمع کرائیں گے جبکہ وفاق اور صوبوں کے تمام سول افسران کے اثاثوں کی تفصیلات بھی لازمی دستیاب ہوگی۔وزارت خزانہ کے مطابق اثاثوں کی آن لائن اشاعت کے لیے پرائیویسی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے انتظامات شامل ہوں گے جبکہ رسک بیسڈ ویری فکیشن کا طریقہ کار بھی متعارف کرایا جائے گا،دستاویز کے مطابق بینک اینٹی منی لانڈرنگ کے لیے وفاقی وصوبائی افسران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کریں گے جبکہ سرکاری اداروں کے اہلکاروں کے اثاثوں کی بھی چھان بین ہوسکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افسران کے اثاثوں کی کی تفصیلات کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔