ڈنمارک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوپن ہیگن (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں پر سوشل میڈیا پابندی کے فیصلے کے بعد اب ڈنمارک بھی اسی طرز کی پابندی لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈنمارک کی حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر انٹرنیٹ صارفین کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو یورپی یونین میں نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ یہ قانون فی الحال ایک تجویز کی صورت میں ہے جسے حکومتی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، منظوری کی صورت میں یہ قانون 2026 ء تک نافذ ہو سکتا ہے۔پابندی کے باوجود یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ والدین 13 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو اجازت دے سکیں گے تاہم 13 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں۔ رپورٹس کے مطابق ڈنمارک میں 13 سال سے کم عمر 98 فیصد بچے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھتے ہیں، جس سے قوانین پر عمل کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں۔ ڈنمارک کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور کیرولین اسٹیج نے کہا کہ جس طرح حقیقی دنیا میں عمر کی بنیاد پر پابندیاں موجود ہیں، ویسے ہی ڈیجیٹل دنیا میں بھی نگرانی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دنیا میں کوئی باڈی گارڈ موجود نہیں اور ہمیں اس کی سخت ضرورت ہے۔ پابندی سے متعلق ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سے نوجوان اپنے آن لائن دوستوں سے رابطہ کھو سکتے ہیں، تاہم کئی والدین نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک ایک ڈیجیٹل ایویڈنس ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے ذریعے پابندی پر عمل یقینی بنایا جا سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سال سے کم عمر سوشل میڈیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔