نینتھارا: بیونڈ دی فیری ٹیل پر قانونی تنازع؟ وجوہات اور وضاحت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
نینتھارا کی نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری "نینتھارا: بیونڈ دی فیری ٹیل" کے حوالے سے رپورٹس تھیں کہ فلم چندر مکھی کے پروڈیوسرز نے اس پر فوٹیج کے غیر مجاز استعمال کا الزام عائد کیا ہے اور 5 کروڑ روپے کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ تاہم، پروڈکشن ہاؤس سیواجی پروڈکشنز نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوٹیج کا استعمال ان کی اجازت سے ہوا ہے۔
چندر مکھی، جس میں رجنی کانت، جیوتیکا، اور پربھو نے اداکاری کی، نینتھارا کے کیریئر کی اہم فلموں میں سے ایک تھی۔ نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری میں نینتھارا کے فلمی سفر اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فلم کی شوٹنگ کے کچھ کلپس استعمال کیے گئے جن پر اعتراض اٹھایا گیا۔
پروڈکشن ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "ہم نے نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری میں فوٹیج کے استعمال کی اجازت دی ہے۔" مزید وضاحت میں بتایا گیا کہ روڈی پکچرز کو فوٹیج کے استعمال کی مکمل اجازت دی گئی تھی اور اس حوالے سے کوئی قانونی تنازع نہیں ہے۔
اس سے قبل نینتھارا اور دھنش کے درمیان بھی نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری پر قانونی اختلاف سامنے آیا تھا۔ دھنش نے 10 کروڑ روپے کا ہرجانہ طلب کیا تھا، جس پر نینتھارا نے وضاحت دی کہ استعمال کی گئی فوٹیج ذاتی موبائل کلپس تھیں کیونکہ پروڈکشن ہاؤس نے اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: استعمال کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔