نینتھارا کی نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری "نینتھارا: بیونڈ دی فیری ٹیل" کے حوالے سے رپورٹس تھیں کہ فلم چندر مکھی کے پروڈیوسرز نے اس پر فوٹیج کے غیر مجاز استعمال کا الزام عائد کیا ہے اور 5 کروڑ روپے کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ تاہم، پروڈکشن ہاؤس سیواجی پروڈکشنز نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوٹیج کا استعمال ان کی اجازت سے ہوا ہے۔

چندر مکھی، جس میں رجنی کانت، جیوتیکا، اور پربھو نے اداکاری کی، نینتھارا کے کیریئر کی اہم فلموں میں سے ایک تھی۔ نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری میں نینتھارا کے فلمی سفر اور کامیابیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، فلم کی شوٹنگ کے کچھ کلپس استعمال کیے گئے جن پر اعتراض اٹھایا گیا۔

پروڈکشن ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "ہم نے نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری میں فوٹیج کے استعمال کی اجازت دی ہے۔" مزید وضاحت میں بتایا گیا کہ روڈی پکچرز کو فوٹیج کے استعمال کی مکمل اجازت دی گئی تھی اور اس حوالے سے کوئی قانونی تنازع نہیں ہے۔

اس سے قبل نینتھارا اور دھنش کے درمیان بھی نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری پر قانونی اختلاف سامنے آیا تھا۔ دھنش نے 10 کروڑ روپے کا ہرجانہ طلب کیا تھا، جس پر نینتھارا نے وضاحت دی کہ استعمال کی گئی فوٹیج ذاتی موبائل کلپس تھیں کیونکہ پروڈکشن ہاؤس نے اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: استعمال کی

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ